صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت؛ فوائد، خطرات اور چیلنجز

مصنوعی ذہانت تیزی سے صحت کے شعبے میں انقلاب لا رہی ہے۔ بیماریوں کی تشخیص سے لے کر مریضوں کی دیکھ بھال تک، اے آئی ڈاکٹروں اور اسپتالوں کو تیز اور درست کام کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

اگرچہ مصنوعی ذہانت کے بے شمار فوائد ہیں لیکن اس کے کچھ خطرات اور چیلنجز بھی ہیں جن کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ صحت کے شعبے کے مستقبل میں ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھتے ہوئے دونوں پہلوؤں کو سمجھنا لازمی ہے۔

صحت میں مصنوعی ذہانت کیا ہے؟

صحت میں اے آئی ایسے کمپیوٹر سسٹمز کو کہا جاتا ہے جو طبی ڈیٹا کا تجزیہ کرسکتے ہیں، اس سے سیکھ سکتے ہیں اور فیصلے یا مشورے دے سکتے ہیں۔

یہ سسٹمز مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہیں۔ اے آئی ایکسرے، سی ٹی اسکین، لیبارٹری رپورٹس اور مریض کے ریکارڈز کا تجزیہ کرکے ڈاکٹروں کی تشخیص اور علاج میں معاونت کرتا ہے۔

صحت میں اے آئی کے فوائد

اے آئی کی سب سے بڑی خوبی بیماریوں کی جلد اور درست تشخیص ہے۔ یہ کینسر، دل کی بیماریوں اور دماغی مسائل جیسے امراض کی ابتدائی نشاندہی کرکے علاج جلد شروع کرنے میں مدد دیتا ہے جو جانیں بچاسکتا ہے۔

اے آئی اسپتالوں میں کارکردگی بھی بڑھاتا ہے۔ یہ ملاقاتوں کا شیڈول بنانے، مریض کے ریکارڈز سنبھالنے اور نگرانی کے کام خودکار طور پر کرسکتا ہے جس سے ڈاکٹروں اور نرسوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور وہ مریضوں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔

مزید برآں اے آئی شخصی علاج کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ مریض کی طبی تاریخ، طرز زندگی اور جینیات کا مطالعہ کرکے ہر فرد کے مطابق علاج تجویز کرتا ہے جس سے نتائج بہتر اور ضمنی اثرات کم ہوتے ہیں۔

صحت میں اے آئی کے خطرات

مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ڈیٹا کی حفاظت ہے۔ اے آٗی کے لیے بڑی مقدار میں مریضوں کا ڈیٹا ضروری ہوتا ہے اور اگر یہ محفوظ نہ ہو تو غلط استعمال یا چوری ہوسکتی ہے۔

اے آئی میں غلطی کا خطرہ بھی موجود ہے۔ سسٹمز صرف اتنے اچھے ہیں جتنا ان کے لیے فراہم کردہ ڈیٹا۔ اگر ڈیٹا نامکمل یا جانبدار ہوتو نتائج غلط ہوسکتے ہیں جو مریض کی حفاظت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مزید یہ کہ تکنیکی انحصار زیادہ ہوسکتا ہے جس سے ڈاکٹر اہم فیصلوں میں اپنی انسانی مہارت اور تجربے پر کم توجہ دے سکتے ہیں۔

اے آئی کے چیلنجز

سب سے بڑا چیلنج اس کا اسپتالوں میں انضمام ہے۔ بہت سے اسپتال پرانے نظام استعمال کرتے ہیں جس سے جدید اے آٗی ٹولز اپنانا مشکل ہوتا ہے۔ لاگت بھی ایک رکاوٹ ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جب کہ قواعد و ضوابط بھی ایک مسئلہ ہیں۔

حکومتیں اور صحت کے ادارے ابھی اے آئی کے استعمال کے لیے قوانین تیار کررہے ہیں۔ واضح ہدایات مریض کی حفاظت اور ذمہ داری کے لیے ضروری ہیں۔

مزید برآں عملے کو اے آئی استعمال کرنے کی مناسب تربیت دینا بھی لازمی ہے ورنہ بہترین سسٹمز بھی درست نتائج نہیں دے سکتے۔

اے آئی صحت کے شعبے میں تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں انقلاب لاسکتی ہے۔ تاہم اس کے خطرات اور چیلنجز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مضبوط ڈیٹا پروٹیکشن، مناسب قواعد و ضوابط اور انسانی نگرانی کے ساتھ اے آئی ایک طاقتور آلہ بن سکتی ہے جو ڈاکٹروں کی مدد کرے اور مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے