او آئی سی اور 23 مسلم ممالک نے اسرائیلی عہدیدار کے صومالی لینڈ دورے کو مسترد کردیا
اس دورے سے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے، دفتر خارجہ
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق تنظیم تعاونِ اسلامی (او آئی سی) اور 23 مسلم ممالک نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے ’’صومالی لینڈ‘‘ خطے میں ایک اسرائیلی عہدیدار کے غیر قانونی دورے کی سختی سے مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس دورے سے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کو کمزور کرتا ہے۔
مشترکہ بیان میں الجزائر، بنگلادیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، عراق، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی اور یمن سمیت دیگر ممالک کے موقف کو شامل کیا گیا ہے۔
او آئی سی نے صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ صومالیہ میں علیحدگی پسند ایجنڈے کی حوصلہ افزائی ناقابلِ قبول ہے اور بین الاقوامی قانون کا احترام، خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور سفارتی آداب کی پابندی علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
بیان میں صومالیہ کے پُرامن بین الاقوامی روابط، تعمیری سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے تحفظ کے لیے اختیار کیے گئے سفارتی اور قانونی اقدامات کی مسلسل حمایت جاری رہے گی۔
مذکورہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرے۔
علاوہ ازیں اسرائیل کو صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو فوری طور پر واپس لینے کا بھی کہا گیا ہے۔
