مراکش کے غار سے انسانی ارتقاء کے اہم مرحلے کی باقیات دریافت
دریافت شدہ انسانی ہڈیوں نے انسانی ارتقاء کے بارے میں کئی خالی جگہیں پُر کرنے میں مدد دی ہے۔
مراکش میں ایک قدیم غار میں دریافت شدہ انسانی ہڈیوں نے انسانی ارتقاء کے بارے میں کئی خالی جگہیں پُر کرنے میں مدد دی ہے۔
اس غار کو گروٹے اے ہومینائیڈز کہا جاتا ہے جو کاسابلانکا مراکش میں واقع ہے، اس غار سے جبڑے، دانت، ریڑھ کی ہڈی اور دیگر ہڈیوں کے ٹکڑے ملے ہیں جو تقریباً 7 لاکھ 63 ہزار سال پرانے ہیں۔
یہ وہ وقت ہے جب جدید انسان کی نسل نے نیانڈرتھال اور ڈینیسووان سے مشترکہ جد سے الگ ہونا شروع کیا۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ باقیات ابتدائی افریقی انسان نما آبادی سے تعلق رکھتی ہیں جن کے جسمانی خدوخال جدید انسان اور نیانڈرتھال کے ساتھ ساتھ پرانی نوع ہومو کے اثرات بھی ظاہر کرتے ہیں۔
یہ دریافت افریقہ میں انسانیت کی اصل کو مضبوط کرتی ہے اور یورپ میں پائے جانے والے ہومو اینٹیسسر کی باقیات سے پیدا شدہ الجھن کو دور کرتی ہے۔
ان باقیات کی تاریخ معلوم کرنے میں غار میں موجود زمین کی تہوں میں مقناطیسی قطبیت کی تبدیلی مددگار ثابت ہوئی۔
یہ تبدیلی جسے ماتویاما-برونز تبدیلی کہا جاتا ہے، تقریباً 7 لاکھ 63 ہزار سال قبل ہوئی تھی اور ہڈیوں کے عین اسی تہہ میں موجود تھی جس سے تاریخ درست طور پر معلوم ہوئی۔
غار میں پائے جانے والی ہڈیوں میں دو بالغوں کے جبڑے، ایک بچے کا جبڑا، چند دانت اور ریڑھ کی ہڈی شامل تھی۔
جبڑوں کی لمبائی، اونچائی اور چوڑائی قدیم نوع ہومو ایریکٹس کے مشابہ تھیں جب کہ دانت زیادہ جدید انسان کی طرح چھوٹے اور نفیس تھے۔
دانتوں کے اندر موجود ڈینٹین اور اینمل کی بناوٹ نے بھی قدیم اور وسطی نوع کی خصوصیات ظاہر کیں۔
ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ آبادی افریقہ میں انسانی ارتقاء کے اُس مرحلے کی نمائندہ تھی جس میں جدید انسان کی نسل بننے کے عمل کے ابتدائی اثرات ظاہر ہو رہے تھے۔
ان باقیات اور یورپی ہومو اینٹیسسر کے فرق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں گروہ جغرافیائی لحاظ سے الگ شاخیں تھیں۔
