فلکیات دانوں نے ہمارے سورج کے اردگرد قریبی خطے میں ایسے سیکڑوں ستاروں کی نشاندہی کی ہے جو اپنی کہکشاؤں میں زندگی کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں۔
کسی بھی سیارے کی زندگی کے لیے سب سے اہم عنصر اس کے گرد گردش کرنے والے ستارے کی طویل مدتی استحکام ہے۔
کچھ ستارے بہت بڑے اور طاقتور ہوتے ہیں اور اپنے ایندھن کو چند ملین سالوں میں ختم کردیتے ہیں جیسے ریجل جو صرف تقریباً دس ملین سال تک چمکے گا۔ اس مدت میں زندگی کے ابھرنے کا موقع بہت کم ہوتا ہے۔
دوسری طرف سرخ بونے ستارے لمبے عرصے تک روشن رہ سکتے ہیں لیکن ان کی شدید روشنی اور دھماکے سیاروں کی قابل رہائشیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
سورج جیسے ستارے ایک متوازن صورت پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ تقریباً دس ارب سال تک مستحکم رہتے ہیں جو پیچیدہ زندگی کے ابھرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتا ہے۔
سورج جیسا ستارہ جی ٹائپ (پیلا بونا) کہلاتا ہے اور اس کے تھوڑے کم ماس والے ساتھی کے ٹائپ کے ستارے کے ٹائپ (نارنجی بونے) بھی طویل عرصے تک مستحکم رہتے ہیں۔
یہ ستارے زیادہ دیر تک زندہ رہنے، کم شدت کی روشنی خارج کرنے اور مستحکم ماحول فراہم کرنے کے باعث زندگی کی تلاش کے لیے بہترین امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔
فلکیات دانوں نے سورج کے اردگرد 33 پارسیک (تقریباً 108 نوری سال) کے فاصلے پر موجود 2ہزار سے زیادہ کے ٹائپ ستاروں کا جائزہ لیا اور ان کی عمر، گردش، درجہ حرارت اور کہکشاں میں مقام کا تعین کیا۔
ان میں سے 580 ستاروں کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ 529 ستارے بالغ، مستحکم اور کم فعال ہیں اور یہ زمین جیسے سیاروں کی تلاش کے لیے بہترین اہداف ہیں۔
مطالعے میں بتایا گیا کہ کے ٹائپ ستارے سرخ بونوں کے مقابلے میں کم شدید الٹرا وائیلیٹ شعاعیں خارج کرتے ہیں اور زیادہ دھماکوں کا شکار نہیں ہوتے جو ان کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔
فلکیات دانوں کے مطابق یہ تحقیق مستقبل میں قریبی ستاروں اور ان کے سیاروں کی زندگی کے امکانات کا مطالعہ کرنے میں بنیادی سنگ میل ثابت ہوگی۔
یہ جائزہ چلی اور اریزونا میں واقع دو بڑی دوربینوں سے کیا گیا جس نے پوری کہکشاں کے کے ٹائپ ستاروں کا احاطہ ممکن بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ستارے اور ان کے سیارے مستقبل میں خلائی مشنز اور تحقیقات کے لیے اہم ہدف ہوں گے۔
