بنگلا دیشی کھلاڑی کو نکالنے پر معین علی آئی پی ایل پر برس پڑے

بنگلا دیشی کھلاڑی کو نکالنے پر معین علی آئی پی ایل پر برس پڑے

ماضی میں پاکستانی کھلاڑی بھی اسی نوعیت کے حالات اور امتیازی رویے کا سامنا کرتے رہے ہیں

انگلینڈ کے سابق آل راؤنڈر معین علی نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل اسکواڈ سے نکالے جانے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عالمی کرکٹ میں نئی بات نہیں ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں پاکستانی کھلاڑی بھی اسی نوعیت کے حالات اور امتیازی رویے کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں معین علی نے عالمی کرکٹ کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ کرکٹ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے والی طاقتیں کون سی ہیں، مگر اس سچ پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی جیسے ادارے بھی اس صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

معین علی کے مطابق آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں، کیونکہ عالمی سیاست اور کرکٹ کا نظام اسی طرز پر چل رہا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستفیض الرحمان کا آئی پی ایل سے باہر ہونا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو برسوں سے جاری ہے، لیکن ایسے معاملات کو دبانے کی روایت بن چکی ہے۔

سابق انگلش کرکٹر نے یاد دلایا کہ پاکستانی کھلاڑی بھی طویل عرصے تک ایسے امتیازی سلوک کا شکار رہے، تاہم ان کے تحفظات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

ادھر بنگلادیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے معین علی نے کہا کہ وہ اس معاملے میں بنگلادیش کے مؤقف کو سمجھتے ہیں اور انہیں اس فیصلے کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے