طالبان رجیم کا سونے کی کانوں پر قبضہ اور افغان اثاثوں کی منظم لوٹ مار بے نقاب
عسکریت پسند طالبان کی یہ شرپسندانہ کارروائیاں پہلے ہی خطے کے ممالک کے لیے سنگین مسائل پیدا کر چکی ہیں
کابل: افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے اپنی غیر قانونی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے اپنی غیر قانونی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے شہریوں سے بھتہ خوری، املاک پر قبضہ اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
عسکریت پسند طالبان کی یہ شرپسندانہ کارروائیاں پہلے ہی خطے کے ممالک کے لیے سنگین مسائل پیدا کر چکی ہیں۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق، شمال مشرقی افغانستان کے صوبوں میں طالبان کی طرف سے سونے کی کانوں پر قبضے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔
جریدے نے رپورٹ کیا کہ طالبان عناصر کسی بھی جگہ سونے کی کان کی اطلاع ملتے ہی مالکان کو بے دخل کر کے وہاں خود قابض ہو جاتے ہیں۔
صوبہ تخار میں اس سلسلے میں مقامی افراد سڑکوں پر نکل آئے اور طالبان کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ہشت صبح نے مزید بتایا کہ بدخشاں، تخار اور فراہ میں مقامی افراد کو سونا نکالنے کے پرمٹ جاری نہیں کیے جا رہے، جبکہ طالبان کے حامی مخصوص حصہ کے عوض کانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
طالبان اور القاعدہ کے گٹھ جوڑ نے بھی قدرتی ذخائر سے ہر ہفتہ لاکھوں ڈالر حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طالبان کی سونے کی کانوں سے ماہانہ آمدن 25 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، اور یہ رقم سالانہ بجٹ میں شامل ہونے کے بجائے طالبان کمانڈرز کی ذاتی جیبوں میں جا رہی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کی یہ لوٹ مار افغانستان کو مزید غربت اور معاشی بحران میں دھکیل رہی ہے۔
افغان مبصرین کے مطابق، قدرتی وسائل پر قبضے کی جنگ طاقتور اور شدت پسند حلقوں کے درمیان نیا تناؤ پیدا کر چکی ہے۔
طالبان کی بڑھتی ہوئی کرپشن، عوام دشمن پالیسیاں اور دہشت گردی کے فروغ میں معاونت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
