کائنات کا نایاب راز؛ کلاؤڈ-9 کی حیران کن دریافت
کلاؤڈ-9 زمین سے تقریباً 14.3 ملین نوری سال دور واقع ہے اور اس کے قریب اسپائرل کہکشاں M94 موجود ہے۔
فلکیات دانوں نے خلا میں ایک نایاب اور پراسرار شے دریافت کی ہے جسے کلاؤڈ-9 کا نام دیا گیا ہے۔
کلاؤڈ-9 زمین سے تقریباً 14.3 ملین نوری سال دور واقع ہے اور اس کے قریب اسپائرل کہکشاں M94 موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کلاؤڈ-9 میں کوئی ستارہ نہیں بلکہ یہ زیادہ تر تاریک مادہ اور ہائیڈروجن گیس کے بادل پر مشتمل ہے جو خلا میں پراسرار انداز میں موجود ہے۔
فلکیات دان اینڈریو فاکس کے مطابق ’’یہ بادل ہمیں تاریک کائنات کی جھلک دکھاتا ہے۔ زیادہ تر مادہ کائنات میں تاریک مادہ ہوتا ہے لیکن یہ روشنی خارج نہیں کرتا، اس لیے اسے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ کلاؤڈ-9 اس مادے کی نایاب تصویر فراہم کرتا ہے‘‘۔
یہ شے ایک خصوصی ریڈیو دوربین کے ذریعے دریافت ہوئی اور اس پر مزید تحقیقات کے لیے دیگر جدید دوربینیں استعمال کی گئیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کلاؤڈ-9 تقریباً 4,900 نوری سال چوڑا ہے اور اس میں موجود ہائیڈروجن گیس کا حجم تقریباً ایک ملین سورج کے برابر ہے۔
اس گیس کو اپنی جگہ رکھنے کے لیے تقریباً پانچ ارب سورج کے ماس کے برابر تاریک مادہ درکار ہے۔ مزید مشاہدات سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس بادل میں کوئی ستارہ موجود نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر ناکام کہکشاں ہے۔
ماہرین کے مطابق کلاؤڈ-9 ایک نایاب قسم کا بادل ہے جو کہکشاں کی ابتدائی تشکیل کا حصہ تھا لیکن ستارے بنانے میں ناکام رہا۔ یہ دریافت ہمیں کائنات میں کہکشاں کی تشکیل اور تاریک مادے کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
فلکیات دان الہٰی بینیتیزلیمبے کا کہنا ہے ’’سائنس میں اکثر ناکامی سے زیادہ سبق ملتا ہے۔ کلاؤڈ-9 ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم نے ایک ابتدائی کہکشاں کے بنیادی عناصر دریافت کرلیے ہیں جو اب تک ستارے پیدا نہیں کرسکی‘‘۔
