مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وقت کم ہے، برطانوی ماہر کا انتباہ

لندن: برطانوی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے پاس جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وقت محدود ہے۔

برطانوی حکومت کی سائنسی تحقیقی ایجنسی کے ایک اہم ماہر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے پاس جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وقت محدود ہو سکتا ہے۔

ڈیوڈ ڈالرمپل، جو Aria ایجنسی میں پروگرام ڈائریکٹر اور AI سیفٹی کے ماہر ہیں، نے کہا ہے کہ عوام کو اس ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت پر تشویش ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے نظام جو انسانی کام انجام دے سکتے ہیں، مستقبل میں ہماری تہذیب، معاشرہ اور زمین پر کنٹرول کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ڈالرمپل نے عوامی شعبے اور AI کمپنیوں کے درمیان مستقبل کی طاقتور AI ٹیکنالوجی کے اثرات کو سمجھنے میں خلا ہونے کی نشاندہی کی۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی مدد سے طبی ماہرین نے بیماری کی دو نئی اقسام دریافت کر لی

ان کا کہنا تھا کہ چیزیں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے لحاظ سے ہم اس کے آگے نہ نکل پائیں۔

ڈالرمپل کے مطابق اگلے پانچ سال میں اقتصادی طور پر اہم کام مشینیں بہتر معیار اور کم لاگت پر انجام دے سکیں گی، یہ کوئی سائنس فکشن نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتیں جدید AI نظاموں کو ہمیشہ قابل اعتماد نہیں سمجھیں، اور Aria ایجنسی ایسے نظام تیار کر رہی ہے جو توانائی کے نیٹ ورک جیسے اہم انفراسٹرکچر میں AI کے استعمال کی حفاظت کریں۔

ڈالرمپل نے کہا کہ بہترین کام یہ ہے کہ ہم نقصان کو کنٹرول اور کم کرنے کی کوشش کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز ترقی اگر حفاظتی اقدامات سے آگے نکل جائے تو معاشرتی اور اقتصادی سیکورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید تکنیکی کام کی ضرورت ہے تاکہ جدید AI نظاموں کے رویوں کو سمجھا اور قابو میں رکھا جا سکے۔

اسی ماہ برطانیہ کی AI سیکورٹی انسٹیٹیوٹ (AISI) نے بتایا کہ جدید AI ماڈلز کی صلاحیتیں ہر شعبے میں تیزی سے بہتر ہو رہی ہیں، اور بعض شعبوں میں کارکردگی ہر آٹھ ماہ میں دوگنی ہو رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ کے مطابق جدید ترین ماڈلز اب نصف وقت میں تربیت یافتہ انسان کے سطح کے کام انجام دے سکتے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تقریباً 10 فیصد تھا۔

AISI نے جدید ماڈلز کو سیلف سیپلیکیشن کے لیے بھی آزمایا، جو ایک اہم حفاظتی تشویش ہے۔

ٹیسٹ میں دو جدید ماڈلز نے 60 فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل کی، تاہم انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا کہ عام حالات میں worst-case scenario کم ہی ممکن ہے۔

ڈالرمپل کا کہنا ہے کہ 2026 کے آخر تک AI نظام ایک مکمل تحقیق اور ترقیاتی دن کے برابر کام خودکار طور پر انجام دے سکیں گے، جس سے صلاحیتوں میں مزید تیزی آئے گی، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی AI کی ریاضی اور کمپیوٹر سائنس عناصر میں خود کو بہتر بنا سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے