آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے حکومت کی تیاری؛ بجٹ میں اہم تبدیلیاں متوقع
آئی ایم ایف شرائط کے تحت آئندہ بجٹ کی تیاری شروع ہوگئی
اسلام آباد: آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ میں معاشی نمو بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں بے روزگاری اور غربت میں کمی، بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی، ٹیکس ریلیف، نئے ٹیکس اقدامات اور پالیسی ریٹ میں کمی جیسے نکات شامل کیے جا رہے ہیں۔
حکومت آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت ریلیف حاصل کرنے کے لیے بھی ورکنگ کر رہی ہے اور پروگرام کے اسٹرکچر میں اہم تبدیلیوں کی درخواست کرنے کا امکان ہے۔
اعلیٰ حکومتی سطح پر زیر غور تجاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں آئی ایم ایف کی مشاورت سے پرائمری بیلنس اور صوبائی بجٹ سرپلس کے اہداف میں نرمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اپنے آخری سال میں معاشی گروتھ 5 سے 6 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کو آن ٹریک رکھتے ہوئے عوامی ریلیف کے لیے بڑے فیصلے متوقع ہیں۔
وزیراعظم نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام کو بزنس کمیونٹی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اسی تناظر میں آئندہ بجٹ میں نئی انڈسٹریل پالیسی کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سپر ٹیکس اصلاحات کے تحت آئندہ چار برسوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر پر سپر ٹیکس کی شرح مرحلہ وار کم کر کے 5 فیصد تک لانے کی تجویز ہے جبکہ پرائمری بیلنس سرپلس ہونے کی صورت میں پانچویں سال سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کم از کم آمدن پر سپر ٹیکس کا تھریش ہولڈ 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کے لیے حد 50 کروڑ سے بڑھا کر 1.5 ارب روپے مقرر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام تجاویز اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائیں گی۔
