سائنسدانوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ شمالی گرین لینڈ میں موجود ایک عظیم برفانی گنبد ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکا تھا، اور وہ درجہ حرارت آج کے مقابلے میں زیادہ مختلف نہیں تھا۔
جریدہ نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، لکسمبرگ کے برابر رقبے پر پھیلا ہوا پروڈھو ڈوم (Prudhoe Dome) تقریباً 7 ہزار سال قبل مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔
تحقیق کے دوران گہرائی میں ڈرل کیے گئے آئس کور سے سورج سے جھلسی ہوئی ریت دریافت ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ ایک گرم بعد از برفانی دور میں مکمل طور پر برف سے پاک ہو چکا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس زمانے میں گرمیوں کا درجہ حرارت آج کے مقابلے میں 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا—ایسا درجہ حرارت جو انسانی سرگرمیوں کے باعث 2100 تک دوبارہ آ سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ کی برفانی چادر اسی رفتار سے پگھلتی رہی تو عالمی سمندری سطح اس صدی میں کئی درجن سینٹی میٹر سے لے کر 1 میٹر (تقریباً 3.2 فٹ) تک بلند ہو سکتی ہے، جو ساحلی شہروں کے لیے شدید خطرہ بن جائے گی۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ شواہد اس محدود لیکن اہم معلومات میں اضافہ کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کے کچھ حصے لاکھوں سال پہلے بھی برف سے پاک رہ چکے ہیں، اور ممکنہ طور پر پوری آئس شیٹ 11 لاکھ سال پہلے بھی مکمل طور پر پگھل چکی تھی۔
اگرچہ ماہرین نے واضح کیا کہ ماضی کی برفانی پگھلاہٹ قدرتی فلکیاتی عوامل کے تحت ہوئی تھی جبکہ آج کی تبدیلی انسانی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، تاہم ان نتائج سے موسمیاتی ماڈلز مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ گرین لینڈ کی برف گرمی کے سامنے کتنی تیزی سے ہتھیار ڈال سکتی ہے۔
