واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی کرۂ ارض کے لیے ایک نئے اور سنگین ماحولیاتی خطرے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز بے تحاشا توانائی استعمال کر رہے ہیں اور فضا میں خطرناک گیسیں خارج ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی کرۂ ارض کے لیے ایک نئے اور سنگین ماحولیاتی خطرے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں ایلون مسک کی کمپنی xAI کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر پر تحقیق کرنے والی ماہرِ ماحولیات شیرون ولسن کا کہنا ہے کہ یہ مرکز قدرتی گیس سے چلنے والے ٹربائنز کے ذریعے بڑی مقدار میں میتھین گیس خارج کر رہا ہے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔
ان کے مطابق آلودگی کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ یہ آنکھیں کھول دینے والا منظر تھا۔
شیرون ولسن نے سوال اٹھایا کہ جس AI چیٹ بوٹ (گروک) کے لیے یہ گیس جلائی جا رہی ہے، وہ اکثر غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور انتہاپسند نظریات پھیلاتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنی آلودگی پیدا کر کے اگر نتیجہ صرف جعلی اور نقصان دہ مواد ہے تو یہ ایک خوفناک ضیاع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز اس وقت عالمی بجلی کا تقریباً ایک فیصد استعمال کرتے ہیں، مگر آئندہ برسوں میں یہ شرح تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
آئرلینڈ جیسے ممالک میں ڈیٹا سینٹرز پہلے ہی قومی بجلی کا پانچواں حصہ استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث حکومت کو نئے مراکز پر پابندیاں لگانا پڑیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق امیر ممالک میں بجلی کی طلب میں اضافے کا ایک بڑا سبب اب ڈیٹا سینٹرز بنتے جا رہے ہیں۔
خدشہ ہے کہ یہ رجحان قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو سست کر سکتا ہے اور فوسل فیول پر انحصار برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کا مؤقف ہے کہ AI اگر درست طریقے سے استعمال ہو تو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جیسے بجلی کے بہتر انتظام، ہوا اور شمسی توانائی کی افادیت میں اضافہ، اور کاربن اخراج میں کمی۔
تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ AI کے فوائد اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب وہ خود آلودگی میں اضافے کا سبب بنیں۔
ماحولیاتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ AI ڈیٹا سینٹرز کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین بنائے جائیں، شفافیت کو لازمی قرار دیا جائے اور فوسل فیول سے چلنے والے منصوبوں کو محدود کیا جائے، تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی زمین کی تباہی کا سبب نہ بنے۔
