لندن: برطانوی جریدے نے امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے آپریشن پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ہفتے کی صبح سویرے صرف دو گھنٹے اور 28 منٹ میں وینزویلا کے صدر نیکولس میدو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو گرفتار کر لیا۔
جریدے کے مطابق یہ غیر معمولی طاقت کا ایک مظاہرہ تھا، جس نے وینزویلا کے 30 ملین شہریوں کے لیے شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر گیا۔ تاہم یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔
انٹیلی جنس اور تیاری:
“اپسولیٹ ریزولو” آپریشن میں CIA اور دیگر امریکی انٹیلی جنس اداروں کی اہمیت کلیدی تھی۔
اگست سے ہی امریکی حکام مادورو کی روزمرہ زندگی اور معمولات پر نظر رکھ رہے تھے، جس میں یہ معلوم کرنا شامل تھا کہ وہ کہاں جاتے ہیں، کہاں رہتے ہیں، کیا کھاتے ہیں اور کس طرح کا سکیورٹی انتظام رکھتے ہیں۔
جریدے کے مطابق مادورو نے اپنی حفاظت بڑھانے کے لیے مختلف جگہوں پر رات گزاری اور کیوبن باڈی گارڈز پر زیادہ انحصار کیا، مگر یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے۔
فوجی تعیناتی اور کارروائی:
نومبر سے امریکہ کے تقریبا ایک چوتھائی بحری جہاز کیریبین میں موجود تھے، جس میں USS Gerald R Ford کے 4,000 اہلکار شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخرکار جمعہ کی رات کارروائی کی اجازت دی۔
وینزویلا کے فضائی دفاع کو توڑنے کے لیے امریکی افواج نے ٹام ہاک میزائلز، AGM-88 ہرم اور ایف-35 فائٹر طیاروں کا استعمال کیا، تاکہ ڈیلٹا فورس کے ہیلی کاپٹرز مادورو کے کمپاؤنڈ تک پہنچ سکیں۔
ڈیلٹا فورس کی کارروائی:
ہیلی کاپٹرز 100 فٹ کی بلندی پر پانی کے اوپر اڑتے ہوئے راڈار سے بچتے ہوئے Fuerte Tiuna پہنچے۔ عملے نے سکیورٹی دروازوں کو کاٹنے کے لیے بلو ٹارچ اور کسی بھی صورت میں مادورو کی حراست کے لیے FBI کے مذاکرات کار تیار رکھے۔
مادورو کے سکیورٹی اہلکاروں سے گن فائٹ ہوئی، جس میں وینزویلا کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی فوجی محفوظ رہے۔
گرفتاری اور نتائج:
مادورو اور ان کی اہلیہ کو USS Iwo Jima پر منتقل کیا گیا، تقریباً دو گھنٹے 28 منٹ کے اندر کارروائی مکمل ہوئی۔
فوجی طور پر یہ کامیاب آپریشن تھا، لیکن اس سے واضح نہیں ہوتا کہ امریکہ ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے گا یا وینزویلا میں کوئی حقیقی تبدیلی آئے گی۔
ماہرین کے مطابق، امریکہ نے اہم شخصیات کو ہٹا دیا، مگر ملک کی “قیادت کی مکمل تبدیلی” ابھی ممکن نہیں۔
یہ کارروائی امریکی فوجی مہارت، انٹیلی جنس کی شدت اور پلاننگ کی ایک مثال ہے، جو عالمی سطح پر طاقت کے غیر معمولی مظاہرے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
