تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ستر لاکھ سال قبل زمین پر رہنے والا ایک قدیم جدِ امجد، جسے طویل عرصے تک بحث و اختلاف کا سامنا رہا، درحقیقت دو پیروں پر چلنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
انسانی ارتقا سے متعلق ایک پرانا اور متنازع سوال ایک بار پھر سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ قدیم مخلوق 2001 میں دریافت ہوئی تھی اور ابتدا میں اسے انسان کے اولین آبا و اجداد میں شمار کیا گیا۔
تاہم بعد ازاں بعض ماہرین نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے انسان کی براہِ راست نسل کے بجائے ایک دور کا رشتہ دار قرار دیا۔ بنیادی تنازع یہ تھا کہ آیا یہ مخلوق انسانوں کی طرح سیدھا چلتی تھی یا پھر موجودہ بندروں کی طرح ہاتھوں کا سہارا لیتی تھی۔
اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس بحث کو بڑی حد تک ختم کردیا ہے۔
ماہرین نے اس قدیم مخلوق کی بازوؤں اور ٹانگوں کی ہڈیوں کا جدید سہ جہتی تجزیہ کیا اور ان کا موازنہ موجودہ اور معدوم انواع سے کیا۔ نتائج نے واضح طور پر اشارہ دیا کہ اس مخلوق کی جسمانی ساخت دو پیروں پر چلنے کے لیے موزوں تھی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ران کی ہڈی میں ایسا خم موجود تھا جو چلنے کے دوران جسم کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ کولہوں کے مضبوط پٹھوں کے شواہد بھی ملے جو سیدھے چلنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ خصوصیات عام طور پر انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔
سب سے اہم دریافت ران کی ہڈی پر موجود ایک خاص ساخت تھی جو کولہے اور ٹانگ کو جوڑنے والے مضبوط رباط کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ساخت دو پیروں پر چلنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور اب تک صرف انسانی نسل میں ہی دیکھی گئی ہے۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ قدیم مخلوق زمین پر دو پیروں پر چلنے کے قابل تھی تاہم اس نے درختوں سے وابستہ زندگی مکمل طور پر ترک نہیں کی تھی۔
غالب امکان ہے کہ یہ مخلوق خوراک کی تلاش اور تحفظ کے لیے درختوں پر بھی وقت گزارتی تھی جب کہ زمین پر چلنے کے لیے دو پیروں کا استعمال کرتی تھی۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق انسانی ارتقا کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دو پیروں پر چلنے کی صلاحیت انسان کی تاریخ میں توقع سے کہیں پہلے پیدا ہوچکی تھی۔
