صدر زرداری کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرین کے ڈرون حملے کی مذمت واضح کرتی ہے کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ اس تنازعے میں کھل کر روس کی حمایت کی ہے اور پاکستان روس امریکہ امن معاہدے کا حامی ہے کیونکہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ وہ یوکرین تنازعے کا پرامن حل چاہتا ہے اور جب روس اور امریکہ امن معاہدے کے قریب تھے تو یوکرین کی جانب سے روسی صدر کی رہائش گاہ پر حملہ اسکو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی۔
روس نے جہاں اس حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا وہیں روس نے واضح کیا کہ اب امن معاہدے کی شرائط پر اب ہم نظرثانی کریں گے، روس فوجی ملٹری آپریشن کے ذریعے یوکرین میں اپنے اہداف تقریباً مکمل کرچکا ہے۔
ڈونباس (مشرقی یوکرین) تقریباً روس فتح کرکے وہاں اپنا نظام حکمرانی قائم کرچکا ہے اور اب روس جنوبی یوکرین کے علاقے فتح کررہا ہے، روسی صدر نے واضح کیا ہے اگر امن معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو روس کی پیش قدمی جاری رہے گی کیونکہ یوکرین کے مستقبل کے باڈر اب روس کے ہاتھ میں ہے اور اگر یورپ امن میں رخنہ ڈالتا ہے تو وہ بھی پھر سنگیں جنگ کے لیے تیار رہے اور یہ جنگ یوکرین جنگ سے مختلف ہوگی۔ روس کی شرط یہ ہے کہ وہ جو علاقہ فتح کرچکا ہے وہ روس کا مستقل حصہ مانا جائے۔
میں پہلا پاکستانی صحافی ہوں جو روس کے نئے فتح شدہ علاقوں کا دورہ کرکے آیا ہوں اور وہاں کے حالات کا چشم دید گواہ ہوں، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس دورے کا اہتمام واشی نووستی نے کیا تھا ۔ وفد میں برازیل، انڈونیشیا، اٹلی، پاکستان، سربیا، سلووینیا، ترکی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صحافی شامل تھے۔
چونکہ میں نے ذاتی طور پر وہاں کے حالات دیکھے، فرنٹ لائن پر قریب سے جنگ دیکھی تو وہاں کے زمینی حقائق سے متعلق میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں، یہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ پہلی بات ہے کہ یہ جنگ روس نے نہیں بلکہ یوکرین نے 2014 میں شروع کی تھی، سب سے پہلے یوکرین کے اندر روس نواز حکومت کا تختہ الٹ کے روس مخالف رجیم کو اقتدار دیا گیا اور پھر یوکرائنی قومیت کے نعرے میں نازی ازم کو فروغ دیا گیا جس کے نتیجے میں یوکرین میں روسی زبان، کلچر اور روسی اسکولوں پر پابندی لگائی گئی جب کہ حقیقت یہ تھی کہ ہر چوتھا یوکرائنی روسی خاندان سے جڑا ہوا تھا اور پھر مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت تھی۔
ان سخت گیر پالیسیوں کے خلاف روسی زبان بولنے والوں نے احتجاج کیا تو اوڈیسہ کے چوک جسے میدان کہتے ہیں مظاہرین کو زندہ جلادیا دیا گیا جس سے یوکرین میں سول وار نے جنم لیا اور پھر ڈونباس ریجن میں ریفرنڈم ہوا اور وہاں کی عوام نے یوکرین سے علیحدگی کا مینڈیٹ دیتے ہوئے خودساختہ ریاستیں قائم کرلیں ڈونتسک پیپل ریپلک اور لوہانسک پیپل ریبلبک یہ دو ریاستیں قائم ہوئیں لیکن جب یوکرین نے فوج کا استعمال کیا تو وہاں جنگ چھڑگئی.
کریمیا ریفرنڈم پروپیگنڈا اور حقیقت
کریمیا ایک ساحلی ریاست ہے جو سوویت یونین کے خاتمے پر کریمیا کو یوکرین کو دے دیا گیا تھا، یہاں سویت یونین کا سب سے بڑا بحری اڈا تھا، بحر اسود پر واقع یہ خطہ تاریخی طور پر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے پورے روس میں عیسایت پھیلی اور اس کے علاوہ یہاں تاتار مسلمانوں کی اکثریت رہی، 2014 میں یوکرین میں خانہ جنگی کے دوران یہاں کے لوگ بہت پریشان تھے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے دھرنا دیا، کریمیا کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ہم ریفرنڈم کراتے ہیں اور یوں 97 فیصد کریمیا کے لوگوں نے روس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، یہ واحد ریاست تھی جو پر امن طور پر روس کے ساتھ چلی گئی، یہاں کوئی جنگ و جدل نہ ہوا۔
کریمیا میں قیام کے دوران ہماری کریمیا کے سربراہ سرگئی اکسینوف اور کریمیا کی اسٹیٹ کونسل کے چیئرمین ولادیمیر کونسٹنٹینوف سے ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے ہمیں کریمیا کے روس سے الحاق اور اس میں پارلیمانی کردار کے حوالے سے آگاہ کیا، ہماری وہاں مقامی لوگوں سے بھی بات ہوئی جب کہ میری زیادہ تر تاتار مسلمانوں سے گفتگو رہی، وہ پاکستان سے انتہائی محبت کرتے ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر اس وجہ سے زیادہ خوش ہیں کہ اُنہوں نے کریمیا کے مسلمانوں کے لیے انتہائی شاندار جامع مسجد تعمیر کرائی، کریمیا کے مفتی اعظم نے بھی پاکستان کے لیے نیک خواہشات بھیجی۔
ڈونباس ریجن اور نازی جنگی جرائم
ڈونباس مشرقی یوکرین کا زرخیز، معدنی وسائل سے بھرپور خطہ ہے، یہاں پر 2014 کی سول جنگ کے نتیجے میں دو الگ ریاستیں ڈونتسک اور لوہانسک بنیں، پھر روس کا اسپیشل ملٹری آپریشن شروع ہوا تو روس نے اس علاقے کو مکمل طور پر یوکرین سے فتح کرلیا لیکن 2014 سے 2022 تک اس علاقے کے لوگوں نے یوکرین کی نازی بٹالین ازو کے ظلم و ستم سہے، ماسکو سے ہم روڈ کے ذریعے ایک بس میں یہاں کے دارلحکومت ڈونتسک پہنچے، یہاں پر یوکرین کی مظالم کے نتیجے میں جان بحق ہونے والے بچّوں کی یادگار فرشتوں کی گلی پہنچے، بچّوں کی یاد گار پر پھول چڑھائے اور مقامی لوگوں سے گفتگو کی کہ اُنہوں نے کیسے مظالم سہے، شہر میں جنگ کے بعد بحالی کا کام زورو شور سے جاری تھا، ڈونباس ریجن کے قومی ہیروز کی یادگار کا دورہ کرنے کے بعد ہماری ملاقات یہاں کے سربراہ حکومت ڈینس پشلین سے گفتگو ہوئی، پاکستان کا سن کر ان کے چہرے پر خوشی کی جھلک دیکھی اور انہوں نے پاکستانی عوام کا ڈونباس کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
گورلوکا میں بھی غیر ملکی صحافیوں کے ہمراہ شہر کے مرکز میں تباہ شدہ عمارتوں، بچوں کے مرکز اور مرنے والے بچوں کے لیے ایک یادگار کمرے کا بھی دورہ کیا۔ اس طرح اودیو کا بھی دورہ کیا وہاں دوبارہ تعمیر شدہ چرچ اور دوبارہ تعمیر کیے جانے والے گھروں کو دیکھا، اودیوکا میں ہمیں حقیقی جنگی مناظر دیکھنے کو ملے، ڈرون کی آوازیں، بم بارود کی بو اور دل کو دہلا دینے والے دھماکوں کی آوازیں، یہاں ایک چیز قابل حیرت تھی وہ یہ کہ چرچ اور گرجا گھروں کی تباہی، میں ذاتی طور پر اس نتیجے پر پہنچا کہ یوکرین کی نازی بٹالین نے وہاں مذہب کے خلاف بھی جنگ روا رکھی حالانکہ یوکرین بھی آرتھوڈکس عیسائی ہیں لیکن جنگ زدہ علاقے میں مجھے کوئی بھی چرچ صحیح سلامت نہیں ملا۔
ماریوپول میں ازوف بٹالین کے جنگی جرائم اور شہر کی بحالی
ماریو پول بحیرہ ازوف پر جنوبی یوکرین میں روس کا نیا فتح شدہ علاقہ ہے، بڑی تجارتی بندرگاہ کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ بحیرہ اسود سے بھی منسلک ہے، ڈونتسک سے ہم یہاں پہنچے، یہاں نازی بٹالین کے ہاتھوں تباہ شدہ تاریخی تھیٹر دیکھا جسے روس اب دوبارہ تعمیر کررہا تھا۔ ہمیں تعمیراتی کام کی وجہ سے اندر تھیٹر جانے کا موقع تو نہیں ملا لیکن اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو خبر آئی ہے کہ اس تھیٹر کو اب عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جب کہ یہاں ماریو پول میں ہم نے یوکرین کی انتہائی دائیں بازو کی ازوف بٹالین کے جنگی جرائم سے متعلق بھی آگاہی حاصل کی کہ کس طریقے سے اس نے سویلین آبادی کو روس کے خلاف جنگ میں شیلڈ کے طور پر استعمال کیا، تھیٹر بھی ازوف بٹالین نے تباہ کیا جب کہ جنوبی یوکرین کا سب سے بڑا صنعتی کمپلیکس ازوفسٹال میں بھی ازوف بٹالین نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا جس کی وجہ سے روسی حملے میں یہ سب سے بڑا صنعتی کمپلیکس تباہ ہوگیا۔
روس جہاں اس شہر کی فوری تعمیر نو کررہا ہے وہاں اس صنعتی کمپلیکس کو دوبارہ تعمیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے یہاں کینسر اور دیگر امراض بہت پھیل رہے تھے، ایک بات قابل ذکر ہے کہ روس نے یہاں کئی نئی رہائشی کالونیاں بنائی ہیں جہاں جنگ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو ہنگامی طور پر بسایا جارہا ہے۔
زاپوروزے ریجن نیوکلیئر پاور پلانٹ اور جنرل گیراسیموف کا نوٹس
ماریوپول سے ہم زاپوروزے ضلع میں پہنچے اور وہاں بحیرہ ازوف کے کنارے ایک گاؤں کریلیوکا کے ریزورٹ پر رات گزاری۔ سب صحافی پرجوش تھے کہ صبح زاپوروزے نیوکلیئر پلانٹ کا دورہ کریں گے، یہ دنیا کا سب سے بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے جو اب روس کے قبضے میں ہے۔ یہاں عالمی جوہری ایجنسی کے معائنہ کار بھی تعینات ہیں، ہمیں بڑی مشکل سے اجازت ملی تھی، شرائط بہت سخت تھیں کہ گھڑی، بریسلٹ، موبائل فون یا کسی قسم کا کوئی الیکڑانک ڈیوائس لے کر نہیں جاسکتے صرف اوسمو پاکٹ 3 کی منظوری ملی کہ ہم وہاں ضروری فوٹج بناسکیں لیکن وہ بھی اس شرط پر اندر میموری کارڈ خالی ہوگا۔
صبح ناشتے کے بعد بحیرہ ازوف کی پرجوش لہروں کی طرح ہم بھی جوش میں بس میں سوار ہوئے اور نیوکلیئر پاور پلانٹ کی طرف چل نکلے، ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ فوری طور پر پولیس اور روسی فوج کے چاک و چوبند دستوں نے ہماری گاڑی کو روک لیا۔ معلوم ہوا کہ روڈ پر یوکرینی ڈرون پھر رہے ہیں اور ہم ان کا ٹارگٹ ہیں۔ روسی فوجی جوانوں نے ہماری گاڑی کے گرد پوزیشن سنھال کر اپنی گنیں اور اینٹی ڈرون ہتھیار فضا کی طرف بلند کر رکھے تھے۔
ایک ڈرون جو ہماری گاڑی کے قریب آرہا تھا اسے مار بھی گرایا، اس کے بعد ہمیں واپس کریلیوکا بھیج دیا گیا، وہاں ہم دو دن مزید ریے اس انتظار میں کہ شاہد ہمیں نیوکلیuر پلانٹ کے دورے کی اجازت مل جائے۔ ہمیں ہمارے میزبانوں کی طرف سے بتایا گیا کہ روس کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل گراسیموف نے ہم پر ڈرون حملے کا نوٹس لیا ہے اب چیزیں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہیں اب ٹاپ سے جو حکم آئے گا صرف اسی کا پالن ہوگا، ہمارے ریزورٹ کی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی، سخت سرد راتوں میں بھی خصوصاَ ازوف کے ساحل پر فوجی دستے تعینات تھے دو دن اور تین راتیں گزارنے کے بعد بالآخر ہمیں فوج کی تحویل میں کریمیا پینچادیا گیا۔
روس یوکرین تنازعے کا نہ جانے حل کیا نکلے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ روس جن علاقوں کو فتح کرچکا ہے وہ روس کے نئے علاقے بن چکے ہیں وہاں دوبارہ تعمیر کا کام اور وہاں کی مقامی آبادی کی خوشی کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ اب ہمشہ روس کا ہی حصّہ رہیں گے۔ مقامی آبادی کا یہ کہنا تھا کہ ہم اپنی ماں کے پاس واپس آگئے ہیں اور ہم اس پر خوش ہیں۔
دوسری طرف یوکرین کی برسر اقتدار رجیم کی ضد یوکرین کو مزید علاقے سے محروم کررہی ہے، ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ یوکرین کا پورا خطہ تاریخی طور پر روس ہی رہا۔ چاہے روسی سلطنتوں کا دور ہو یا پھر سویت یونین کا دور ہو، تاہم سویت یونین کے انہدام کے بعد روس ایک الگ ملک کی حثیت سے سامنے آیا، اب نیٹو اور مغربی آشیر واد کی وجہ سے یوکرین خود کو صفحہ ہستی سے مٹاتا جارہا ہے۔ اگر وہ نیٹو کی پراکسی بننے کی بجائے اچھے ہمسائے کی طرح روس کے ساتھ رہتا تو یہ نوبت نہ آتی، ویسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں یوکرین اگر امن معاہدے کو مان لیتا ہے تو روس توانائی سمیت یوکرین کی ضرورت پوری کرے گا، پاکستان روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کو سپورٹ کرتا ہے اور وہاں امن کا خواہاں ہے۔
