غزہ میں شدید سردی اور طوفانی ہواؤں نے تباہی مچا دی، 5 فلسطینی شہید

غزہ میں شدید سرد موسم اور طوفانی ہواؤں کے باعث قائم عارضی کیمپوں میں انتہائی خطرناک حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث دیواریں گرنے سے خیمے تباہ ہو گئے، جبکہ ایک کمسن بچہ سردی کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

غزہ سٹی کے الشفا اسپتال کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین، ایک بچی اور ایک مرد شامل ہیں، جن کی لاشیں منگل کے روز اسپتال منتقل کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ساحلی علاقے میں آٹھ میٹر بلند دیوار ایک خیمے پر گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد—72 سالہ محمد حمودہ، ان کی 15 سالہ پوتی اور بہو جان سے گئے، جبکہ کم از کم پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک سالہ بچہ رات کے وقت ہائپوتھرمیا کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے افراد ملبہ ہٹا کر دوبارہ خیمے کھڑے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ کی صورتحال پر برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت  10 ممالک کا اظہار تشویش

جاں بحق افراد کے عزیز باسل حمودہ نے تدفین کے بعد کہا کہ “دنیا نے ہمیں موت کی ہر شکل دیکھنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، بمباری وقتی طور پر رکی ہے مگر غزہ میں موت کا سلسلہ نہیں رکا۔”

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے مطابق غزہ بھر میں خیمے، ترپالیں، کمبل، کپڑے، غذائی اشیا اور صفائی کا سامان تقسیم کیا جا رہا ہے، تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ناکافی پناہ گاہوں کے باعث لوگ سردیوں کے طوفانوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔

امدادی تنظیموں کے مطابق غزہ کی اکثریتی آبادی اب بھی عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ان کے گھروں کا ملبہ بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے، مگر اس کے باوجود اسرائیلی فائرنگ کے واقعات میں 440 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی کم از کم 100 بچے مختلف عسکری کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں، جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جسے دنیا اب سکون کہہ رہی ہے، وہ کسی اور جگہ مکمل بحران تصور کیا جاتا۔

غزہ میں یہ تیسری سردی ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد آ رہی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 71 ہزار 400 سے زائد فلسطینی اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، جبکہ دو ملین سے زائد آبادی شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے