بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی
سرکلر ڈیٹ ختم ہونے کی صورت میں عوام کو فی یونٹ 3.23 روپے کا مزید ریلیف ملے گا
حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کے نتیجے میں کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق کراس سبسڈی کا مجموعی حجم 225 ارب روپے سے کم ہو کر 102 ارب روپے رہ گیا ہے، جبکہ فی یونٹ سبسڈی کا بوجھ 8.9 روپے سے کم ہو کر 4.02 روپے تک آ گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 62.99 روپے فی یونٹ بشمول ٹیکس سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں، جبکہ بجلی کی مجموعی فی یونٹ قیمت 53.04 روپے سے کم ہو کر 42.27 روپے مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے ناکارہ پاور پلانٹس بند کرنے اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات و معاہدے کرنے کے بعد بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی ممکن بنائی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت نے تین سال کے لیے اضافی بجلی کی کھپت پر 22.98 روپے فی یونٹ کا خصوصی پیکج بھی متعارف کرایا ہے، جبکہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے جامع پلان پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکلر ڈیٹ ختم ہونے کی صورت میں عوام کو فی یونٹ 3.23 روپے کا مزید ریلیف ملے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ آف گرڈ سولر صارفین میں اضافے کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دوگنی ہو کر 22 ملین تک پہنچ گئی ہے، جس سے پاور سیکٹر پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ اس وقت کمرشل اور بلک سپلائی صارفین صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے ٹیرف حکومت کی وسیع تر سماجی اور اقتصادی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، اور کراس سبسڈی کے بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں سبسڈی اصلاحات اور قرضوں کی ری فنانسنگ بھی شامل ہے۔
