ایران میں جاری احتجاجی لہر اور واشنگٹن کی سخت ہوتی زبان کے درمیان خطے میں جنگی خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ایران میں براہِ راست مداخلت کر سکتا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا نے خطے میں موجود اپنے بعض فوجی اڈوں سے عملے کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے ممکنہ عسکری کارروائی سے قبل ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض احتیاطی نوعیت کا ہے، تاہم ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو دی گئی وارننگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈے اس کے جواب کا ہدف بن سکتے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں واقع حساس فوجی تنصیبات سے محدود عملہ واپس بلایا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں برطانیہ نے بھی قطر میں واقع اپنے ایک فضائی اڈے سے بعض اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے اتحادی ممالک کی مشترکہ تشویش کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف عسکری آپشنز پر بریفنگ دے دی ہے۔
ان آپشنز میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام، بیلسٹک میزائل تنصیبات، داخلی سیکیورٹی اداروں اور ممکنہ سائبر حملوں کو نشانہ بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چند دنوں میں کارروائی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے منظرناموں پر بھی غور مکمل کر لیا گیا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق امریکی بحریہ کے تین میزائل بردار ڈسٹرائر پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں، جبکہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس روز ویلٹ حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک جدید میزائل بردار آبدوز کی موجودگی نے بھی خطے میں طاقت کے توازن کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ “تمام اشارے اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ امریکی حملہ اب محض قیاس نہیں رہا بلکہ کسی بھی لمحے عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دو یورپی عہدیداروں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت اگلے 24 گھنٹوں میں ممکن ہے، جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کے وقت اور دائرہ کار پر پردہ بدستور برقرار ہے۔
ادھر قطر نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید ایئر بیس سے عملے میں کمی موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث کی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق آنے والے چند گھنٹے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
