ایران کے خلاف امریکی اقدامات اور صدر ٹرمپ کے مظاہرین کے لیے پیغام پر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے ایران میں مظاہرین کو اکسانے پر مبنی بیانات جاری کرنے کے بعد مختلف عالمی اور علاقائی کھلاڑیوں نے اس صورتحال پر موقف دیا ہے۔
روس کا مؤقف
ماسکو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی کوئی بھی فوجی مہم جوئی ناقابل قبول ہے اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
روس کے مطابق ایران کو رنگین انقلاب کے ذریعے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
قطر کی تشویش
دوحہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ایرانی مظاہرین کے لیے جلد مدد پہنچنے والی ہے، صدر ٹرمپ
قطر نے زور دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ طاقت کے استعمال سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے صدر ٹرمپ کے مظاہرین کے لیے پیغام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایرانی عوام کے مرکزی قاتل نامزد کرتے ہیں۔
لاریجانی کے مطابق مظاہرین کے قاتلوں کے نام محفوظ کرنے کا جو بیان ٹرمپ نے دیا، اصل ذمہ دار خود امریکا اور اسرائیل ہیں۔
ایرانی فوج کی تیاری
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ ایران آج اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور فوج نے گزشتہ چھ ماہ میں امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔
سخت دفاعی پیغام
ایرانی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ ایران ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے سرپرائزز تیار کر چکا ہے اور اگر ایران پر کوئی جارحیت کی گئی تو دنیا بھر میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہوگا۔
سفارتی رابطے
ایران اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے خطے کی صورتحال پر بات چیت کی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ نے بھی ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا اور دوطرفہ تعلقات و تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ واضح ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی خطے میں فوجی اور سفارتی تیاری دونوں جاری ہیں، جبکہ عالمی اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر محتاط مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
