عالمی میڈیا میں ایران پر امریکی حملے کی بازگشت، یورپی شہریوں کا انخلا

واشنگٹن:  عالمی میڈیا پر ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی بازگشت سنی جارہی ہے، جس کے بعد یورپی ممالک نے ایران سے اپنے شہریوں کا انخلا شروع کردیا ہے۔

امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں اور ان کی ترجیح طویل جنگ کے بجائے مختصر، مگر فیصلہ کن فوجی کارروائی ہے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق صدر ٹرمپ ایسی کارروائی کے حامی ہیں جس سے فوری نتائج حاصل ہوں اور خطے میں طویل فوجی الجھاؤ سے بچا جا سکے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے، شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر حملے سے قبل وارننگ دے گا۔

جرمن ایئرلائن نے سکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ادھر ایران میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ، اٹلی اور بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، خلیجی ممالک نے تیل کی منڈی لرزنے کی وارننگ دے دی

اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں جن کی اکثریت تہران میں مقیم ہے۔

پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے اور برطانوی سفیر بھی تہران سے روانہ ہو چکے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے مغربی فوجی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تمام اشارے ایران پر عنقریب امریکی حملے کی طرف جا رہے ہیں، جو آئندہ 24 گھنٹوں میں بھی ہو سکتا ہے، جبکہ غیر متوقع پن امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہوگا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر صدر ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم حملے کے دائرہ کار اور وقت پر حتمی وضاحت باقی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق امریکا کو ایران کے ممکنہ فوجی اہداف کی ایک تفصیلی فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق امریکا وسیع بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ طور پر ایران میں 50 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق یہ فہرست واشنگٹن میں قائم تنظیم یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کو دی ہے۔

فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کا ثاراللہ ہیڈکوارٹرز بھی شامل ہے، جسے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کے مختلف علاقوں میں قائم دفاتر کے علاوہ ایرانی فوج کے 23 اڈوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 50 ممکنہ اہداف شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای اور ترکیے سمیت خطے کے ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ان ممالک میں موجود امریکی اڈے بھی جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، جبکہ قطر نے تصدیق کی ہے کہ العدید ایئر بیس سے بھی عملے میں کمی کی جا رہی ہے۔

ادھر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ امریکی دھمکیوں کے باوجود ایران کے ساتھ روسی معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو اس کی کمزور ہوتی عالمی پوزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے