ایک رات کی نیند سو سے زائد بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کرسکتی ہے
یہ نظام دل کے امراض، دماغی کمزوری اور فالج جیسے خطرات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسا جدید خودکار نظام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے دوران حاصل ہونے والے جسمانی اعداد و شمار کی بنیاد پر آئندہ برسوں میں لاحق ہونے والی سو سے زائد بیماریوں کے خطرات کا اندازہ لگاسکتا ہے۔
تحقیقی مقالے کے مطابق یہ نظام دل کے امراض، دماغی کمزوری، فالج اور مجموعی طور پر قبل از وقت موت جیسے خطرات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ہزاروں افراد کی نیند سے متعلق طویل المدتی معلومات کو بنیاد بنایا گیا جن میں دماغی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے کا عمل اور جسمانی حرکات شامل تھیں۔
یہ تحقیق تقریباً 65 ہزار افراد کے چھ لاکھ گھنٹوں سے زائد نیند کے ریکارڈ پر مبنی ہے جو مختلف نیند کے مراکز میں جمع کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق نیند کے مطالعے کے دوران جسم سے حاصل ہونے والے اشارے انسانی صحت کے بارے میں غیر معمولی معلومات فراہم کرتے ہیں جنہیں اب باقاعدہ طور پر سمجھنا ممکن ہورہا ہے۔
اس نظام کی جانچ ایک منفرد طریقے سے کی گئی جس میں بعض جسمانی معلومات کو جان بوجھ کر ہٹادیا گیا تاکہ نظام باقی ڈیٹا کی مدد سے خود اندازہ لگاسکے۔
بعد ازاں ان معلومات کو مریضوں کی کئی دہائیوں پر محیط طبی تاریخ کے ساتھ جوڑا گیا جس سے اس نظام کی پیش گوئی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ نظام تقریباً ایک ہزار بیماریوں میں سے ایک سو تیس کے بارے میں مناسب درستگی سے پیش گوئی کرسکتا ہے۔ بالخصوص کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، ذہنی امراض، دل اور گردوں کی بیماریوں کے حوالے سے نتائج نہایت مؤثر رہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے اہم اشارے اس وقت سامنے آئے جب جسم کے مختلف نظام آپس میں ہم آہنگ نظر نہیں آئے، مثلاً دماغ نیند کی حالت میں ہو مگر دل جاگنے جیسی کیفیت دکھا رہا ہو۔ ایسی صورتحال آئندہ کسی بڑی بیماری کی علامت ثابت ہوسکتی ہے۔
اگرچہ تحقیق میں شامل افراد وہ تھے جو پہلے ہی نیند کے مسائل کے باعث طبی مراکز سے رجوع کرچکے تھے، اس لیے عام لوگوں کی مکمل نمائندگی ممکن نہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لاسکتی ہے۔
ماہرین کو امید ہے کہ آگے چل کر یہ نظام پہننے والے جدید آلات کے ساتھ جوڑ کر حقیقی وقت میں صحت کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یوں نیند کو سمجھنے کا یہ نیا طریقہ انسانی صحت کے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
