بھارتی سیکیورٹی پھر ناکام، ویمنز پریمیئر لیگ کا میچ شائقین کے بغیر کرانے کا فیصلہ
بھارت میں کھیلوں کے بڑے ایونٹس کے لیے سیکیورٹی پلاننگ کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے
بھارت میں سیکیورٹی انتظامات کی کمزوری ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی، جہاں ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کا ایک اہم میچ شائقین کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے نام پر کیا گیا، جو بھارتی انتظامی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوی ممبئی میں بلدیاتی کارپوریشن کے انتخابات کے باعث پولیس حکام نے کرکٹ میچ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
اسی بنا پر 15 جنوری کو ممبئی انڈینز اور یو پی واریئرز کے درمیان ہونے والا ویمنز پریمیئر لیگ کا میچ بند دروازوں کے پیچھے کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی جانب سے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو آگاہ کیا گیا ہے کہ انتخابی پولنگ کے دن سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر مصروف ہوں گی اور ایک ساتھ انتخابات اور کرکٹ ایونٹ کے لیے مناسب انتظامات ممکن نہیں۔
اس صورتحال نے بھارت میں کھیلوں کے بڑے ایونٹس کے لیے سیکیورٹی پلاننگ کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
حیران کن طور پر تاحال یہ فیصلہ بھی سامنے نہیں آ سکا کہ 14 اور 16 جنوری کو ہونے والے میچز بھی شائقین کے بغیر ہوں گے یا نہیں، جس سے شائقین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف تماشائیوں بلکہ ویمنز کرکٹ کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ویمنز پریمیئر لیگ کے سرکاری آن لائن ٹکٹ پلیٹ فارم پر 14، 15 اور 16 جنوری کے میچز کے ٹکٹ فروخت کے لیے دستیاب ہی نہیں، جو انتظامی بدنظمی اور ناقص منصوبہ بندی کی واضح مثال ہے۔
کھیلوں کے فروغ کے بڑے دعوے کرنے والا بھارت ایک بار پھر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ وہ بڑے ایونٹس کو مؤثر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔
سیکیورٹی کے نام پر شائقین کو اسٹیڈیم سے دور رکھنا دراصل ناکام حکمتِ عملی اور ناقص انتظامات کا اعتراف ہے، جس کا نقصان براہِ راست کھیل اور کھلاڑیوں دونوں کو پہنچ رہا ہے۔
