ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، خلیجی ممالک نے تیل کی منڈی لرزنے کی وارننگ دے دی

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، خلیجی ممالک نے تیل کی منڈی لرزنے کی وارننگ دے دی

عرب ممالک کو سب سے بڑا خدشہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے لاحق ہے

خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام عالمی آئل مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دے گا اور اس کے اثرات خود امریکا کی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ریاستیں بظاہر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم پسِ پردہ سفارتی محاذ پر واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔

خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان اس معاملے پر خاص طور پر سرگرم ہیں اور امریکا کو باور کرا رہے ہیں کہ ایران پر حملہ عالمی تیل کی سپلائی کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔

سعودی حکام نے تہران کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی تنازع میں فریق نہیں بنیں گے اور نہ ہی امریکا کو اپنی فضائی حدود ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

عرب ممالک کو سب سے بڑا خدشہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے لاحق ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ خلیجی ریاستوں کے مطابق اگر اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی بڑھی تو عالمی تیل کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں اور حتمی فیصلہ انہی کی صوابدید پر ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی اپیل بھی کی تھی، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر مزید تیز ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے