کانگو میں ایبولا وبا بے قابو، اموات کی شرح نے عالمی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اب تک 56 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ شرح اموات تقریباً 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
افریقی ملک جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں ایبولا وائرس کی نئی لہر تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے جہاں صورتحال خطرناک حد تک بگڑ گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 782 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 181 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق یہ وبا خاموشی سے پھیلتی رہی اور باضابطہ تصدیق 15 مئی کو ہوئی، جس کے باعث ابتدائی ہفتوں میں کیسز کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق رابطہ ٹریسنگ کی صلاحیت بھی کم ہو کر صرف 56 فیصد رہ گئی ہے، جس نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نئی وبا ایک نایاب بنڈیبگیو اسٹرین سے جڑی ہوئی ہے، جس کے خلاف نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی مؤثر علاج، جس نے صحت کے عالمی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اب تک 56 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ شرح اموات تقریباً 23 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سب سے زیادہ کیسز صوبہ ایتوری میں رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں مجموعی کیسز کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ وائرس اب شمالی اور جنوبی کیوو کے علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سرحد پار کر کے یوگنڈا تک بھی پھیلنے لگا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق علاقے میں جاری تنازعات کے باعث تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا اور مریضوں کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا پورے خطے کے لیے ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
