جنگ بندی معاہدہ بے معنی، اسرائیل کے فضائی حملوں میں بیروت زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا

جنگ بندی معاہدہ بے معنی، اسرائیل کے فضائی حملوں میں بیروت زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا

اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں کا ہدف حزب اللہ سے متعلق ایک مقام تھا

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی ایک اور مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ (داحیہ) پر فضائی حملے کر دیے، جس کے بعد علاقے میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا میں دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دکھائی دیے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملوں کے فوراً بعد متعدد مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ ہو گئیں۔

اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں کا ہدف حزب اللہ سے متعلق ایک مقام تھا۔ تاہم حملے کے فوری بعد نقصان یا جانی خسارے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چند گھنٹے قبل اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے دو ڈرون حملوں کے بعد داحیہ پر فضائی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی فورسز مارچ سے لبنان کے مختلف علاقوں میں بمباری کر رہی ہیں جبکہ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں فوجی موجودگی بھی برقرار ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 3 ہزار 700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، تقریباً 11 ہزار 500 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 15 لاکھ سے زیادہ شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لبنان میں تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے