لاہور: صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ آئندہ چند روز میں کئی اہم معاملات کو حتمی شکل دے دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی، ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ سے متعلق نئی پالیسی تیار کی جارہی ہے اور اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ پیر کے روز دی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت کیا جائے گا اور بورڈ کے بیشتر معاملات آن لائن نظام پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں گے صرف انہیں ہی سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے گا جب کہ جو کسی بھی مقررہ کیٹیگری کے معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے کنٹریکٹ نہیں ملے گا، چاہے وہ کوئی بھی کھلاڑی ہو۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کی پانچ مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جارہی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کے لئے الگ کیٹیگری بنائی جارہی ہے جو اے کیٹیگری کے مساوی ہوگی جب کہ ٹیسٹ، وائٹ بال اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے کنٹریکٹس الگ الگ ہوں گے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اسی طرح ایمرجنگ کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد 5 سے بڑھا کر 15 کرنے پر بھی کام کیا گیا ہے۔ تینوں فارمیٹس کی میچ فیس میں اضافہ کیا جارہا ہے اور ان تمام معاملات پر پیر کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کھلاڑیوں کے ساتھ ملاقات بھی طے ہے کیونکہ کھلاڑی بورڈ کے اہم شراکت دار ہیں۔ انہیں ذاتی طور پر یہ معلوم نہیں کہ کون سا کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتا ہے یا نہیں تاہم پالیسی واضح ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لینے والوں کو ہی کنٹریکٹ دیا جائے گا۔
محسن نقوی کہتے ہیں کہ وہ یونس خان سے ملاقات کررہے ہیں اور کرکٹ سے وابستہ تجربہ کار افراد کو نظام میں شامل کیا جارہا ہے تاکہ کرکٹ سے متعلق اختیارات انہی لوگوں کے پاس ہوں جو کھیل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کو برقرار رکھنے یا تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی کرکٹ ماہرین کریں گے جب کہ محمد حفیظ سمیت متعدد سابق کرکٹرز سے رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری ذمہ داری ادارے کو مالی طور پر مضبوط بنانا اور پاکستان سپر لیگ کو مزید مستحکم کرنا ہے جب کہ کرکٹ سے متعلق فیصلے کرکٹ کے ماہرین کے سپرد کیے جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ مائیک ہیسن کی کوچنگ میں ٹیم نے زیادہ میچز جیتے ہیں، اگرچہ کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتا جاسکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں یہ سوچ نقصان دہ ثابت ہوئی کہ کچھ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے جب کہ ان کی خواہش ہے کہ جو کھلاڑی ملک کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دیں ان کے لیے قومی ٹیم کے دروازے بند ہونے چاہئیے۔
چیئرمین پی سی بی نے سرفراز احمد کے حوالے سے کہا کہ انہیں ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور وہ پاکستان کرکٹ کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔
