طالبان اقتدار میں دراڑیں گہری، کابل اور قندھار کے درمیان خاموش طاقت کی جنگ

افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکومت کے اندر شدید نظریاتی اور انتظامی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں، جس کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ طالبان قیادت عملی طور پر دو مخالف مراکزِ طاقت میں تقسیم ہو چکی ہے۔

ایک جانب قندھار ہے، جہاں سخت گیر مذہبی سوچ کے حامل سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ قابض ہیں، جبکہ دوسری طرف کابل ہے، جہاں نسبتاً حقیقت پسند طالبان رہنما ریاست چلانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قندھار دھڑا افغانستان کو ایک ایسے بند معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جو جدید دنیا سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہو۔ اس سوچ کے تحت خواتین کی تعلیم، روزگار، میڈیا، انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو ’’غیراسلامی‘‘ قرار دے کر محدود یا ممنوع بنایا جا رہا ہے۔

ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار کو طاقت کا اصل مرکز بنا کر کابل حکومت کو محض ایک علامتی انتظامیہ میں بدلنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ سیکیورٹی فورسز، ہتھیاروں اور اہم پالیسی فیصلوں پر بھی کابل کا کنٹرول ختم کر دیا گیا۔

اس کے برعکس کابل میں موجود طالبان قیادت، جس میں سراج الدین حقانی، ملا یعقوب اور عبدالغنی برادر شامل ہیں، اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ مکمل سخت گیری افغانستان کو عالمی تنہائی، معاشی تباہی اور اندرونی بغاوت کی طرف دھکیل رہی ہے۔

یہ گروہ ایک ایسا ماڈل چاہتا ہے جس میں اسلامی شناخت کے ساتھ تجارت، سفارت کاری اور عالمی روابط بھی قائم رہیں، تاکہ طالبان حکومت کم از کم معاشی طور پر زندہ رہ سکے۔

اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب قندھار سے پورے افغانستان میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس فیصلے نے کابل دھڑے کے مالی مفادات، حکمرانی کے نظام اور بیرونی رابطوں کو براہِ راست متاثر کیا۔

نتیجتاً، چند ہی دنوں میں انٹرنیٹ کی بحالی طالبان تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ بن گئی، جسے ماہرین کابل قیادت کی خاموش بغاوت قرار دے رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم جیسے انسانی حقوق کے سنگین معاملات پر کبھی کھل کر اختلاف نہیں کیا، مگر جب طاقت، پیسہ اور اثر و رسوخ خطرے میں پڑا تو اختلاف کی لکیر واضح ہو گئی۔ یہی تضاد طالبان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔

اگرچہ بظاہر صورتحال وقتی طور پر قابو میں دکھائی دیتی ہے، لیکن اندرونی کشمکش ختم نہیں ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جو خود اپنے نظریاتی بوجھ تلے دب رہی ہے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو افغانستان ایک بار پھر شدید سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

طالبان ترجمان اسے محض ’’اختلافِ رائے‘‘ قرار دے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کی یہ جنگ اب خاموش نہیں رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے