میناب واقعہ، ٹرمپ نے امریکی شمولیت کے دعوؤں کو ایک بار پھر مسترد کر دیا
بعض رپورٹس میں حملے کے لیے ٹوما ہاک میزائل کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے
واشنگٹن میں ایک بار پھر میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول حملے نے سیاسی اور سفارتی بحث کو تازہ کر دیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے میں امریکی شمولیت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا جو واشنگٹن کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتا ہو۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا مگر ساتھ ہی کہا کہ حملے کے وقت فضا میں مختلف سمتوں سے میزائل سرگرمی دیکھی گئی، جس کے باعث حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔ ان کے بقول اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جو واضح طور پر یہ ثابت کرے کہ یہ امریکی میزائل تھا۔
صدر نے اس معاملے پر وزیر دفاع سے بھی وضاحت طلب کی ہے جبکہ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مختلف زاویوں سے جاری ہیں اور مکمل رپورٹ آنے تک کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا میں اس واقعے کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں حملے کے لیے ٹوما ہاک میزائل کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ کچھ ادارے براہِ راست امریکی کردار کے امکان پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان متضاد اطلاعات نے واشنگٹن میں سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
کانگریس میں بھی اس معاملے پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے جہاں بعض ارکان نے وزیر دفاع کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کچھ قانون سازوں نے شفاف رپورٹ کی فراہمی تک حکومتی اخراجات سے متعلق فیصلوں کو مؤخر کرنے کی بات کی ہے۔
ادھر امریکی سینٹکام حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ انتہائی پیچیدہ نوعیت کا ہے اور حتمی تحقیقاتی نتائج کے بعد ہی تفصیلی مؤقف سامنے لایا جائے گا۔
ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں کیا گیا جس میں درجنوں طلبہ و اساتذہ سمیت 155 افراد ہلاک ہوئے۔ تہران کا کہنا ہے کہ بعض لاپتا افراد کی باقیات تاحال نہیں مل سکیں جس سے واقعے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
تحقیقات کے جاری رہنے اور مختلف بیانیوں کے باعث میناب اسکول حملہ اب بھی عالمی سطح پر ایک متنازع اور غیر واضح واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں سوالات موجود ہیں مگر حتمی جواب ابھی سامنے نہیں آیا۔
