سفارتکاری بھی جہاد کی ایک قسم ہے، ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ
فوجی طاقت جتنی بھی مضبوط ہو، اس کے نتائج کو قانونی اور سیاسی طور پر تسلیم کرانا ضروری ہوتا ہے، باقر قالیباف
تہران: ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ فوجی طاقت جتنی بھی مضبوط ہو، اس کے نتائج کو قانونی اور سیاسی طور پر تسلیم کرانا ضروری ہوتا ہے جب کہ کامیابی کو تحریری شکل دینا سفارتکاری کی اہم ذمہ داری ہے۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ صرف عسکری طاقت پر انحصار کافی نہیں ہوتا کیونکہ سفارتکاری کے بغیر فوجی برتری کا مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات میدان جنگ میں ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جہاں سفارتکاری کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کام عسکری میدان کسی وجہ سے انجام نہیں دے سکتا، اسے سفارتکاری مکمل کرتی ہے۔ اسی لیے سفارتکاری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ قومی مفادات کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ وہ کئی سال قبل بھی یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ سفارتکاری بھی جہاد کی ایک قسم ہے۔ صرف سفارتکاری یا صرف فوجی میدان کی بات کرنا ایک انحرافی سوچ ہے جب کہ دونوں شعبے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
ایرانی رہنما نے لبنان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی ہوچکی ہے اور بعض شہری اپنے علاقوں میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ اس عمل کو آگے بڑھانے اور خطے میں استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے کے مطابق پوری لبنانی سرزمین کے احترام اور قومی خودمختاری کو برقرار رہنا چاہیے۔ اگر لبنانی سرزمین اور اس کی خودمختاری کا احترام نہ کیا گیا تو ایران لبنان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
باقر قالیباف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے مؤقف اور خطے میں استحکام کے لیے جاری کوششوں پر پوری طاقت کے ساتھ گامزن رہے گا۔
