قومی ہاکی ایک بار پھر سیاست کی نذر، شہلا رضا کا فیڈریشن انتخابات ماننے سے انکار
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) اپنا علیحدہ پورٹل بنائے اور اپنے الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرائے
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چار سال بعد شروع ہونے والے انتخابات ایک بار پھر شدید تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا نے اولمپئنز کے ہمراہ ہاکی فیڈریشن کے انتخابی عمل کو ماننے سے دوٹوک انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ یہ انتخابات قبول ہیں اور نہ ہی انہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ ایسے انتخابات کو کیسے روکا جاتا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سیدہ شہلا رضا نے انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اسکروٹنی کا عمل خود ہاکی فیڈریشن نے ہی کرنا تھا تو پھر قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی ہدایات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) اپنا علیحدہ پورٹل بنائے اور اپنے الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرائے، بصورت دیگر انتخابی عمل کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
اس موقع پر اولمپئن ناصر علی اور اولمپئن حنیف خان نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں انصاف ہوگا تو ثابت ہو جائے گا کہ ملک میں واقعی نواز شریف کی حکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاکی جیسے قومی کھیل کے ساتھ کھلواڑ ناقابلِ قبول ہے اور شفافیت کے بغیر انتخابات کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پریس کانفرنس میں شریک ہاکی اولمپئنز سمیع اللہ، کلیم اللہ، ایاز محمود، افتخار سید اور نعیم اختر سمیت دیگر سابق بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت ہونے والے انتخابات نہ ہاکی کی بہتری کی ضمانت ہیں اور نہ ہی کھیل کو درپیش مسائل کا حل۔
ماہرین کے مطابق قومی کھیل کی بحالی کے نام پر شروع ہونے والا انتخابی عمل ایک بار پھر سیاسی مداخلت، ادارہ جاتی کشمکش اور شفافیت کے فقدان کی بھینٹ چڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جس سے پاکستان ہاکی کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
