ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا دروازہ کھل سکتا ہے، امریکی نائب صدر
خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے تقریباً 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی گنجائش موجود ہے
امریکا نے ایک اہم بیان میں اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے اور عالمی معائنے کے نظام کو قبول کرے تو اسے خطے کے اتحادی ممالک کی جانب سے ایک بڑے تعمیر نو فنڈ تک رسائی مل سکتی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے تقریباً 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی گنجائش موجود ہے تاہم یہ پیشکش مکمل طور پر ایران کے رویے اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات سے مشروط ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس بات کے لیے تیار ہے کہ خلیجی خطے کے ممالک ایران میں سرمایہ کاری کریں لیکن صرف اس صورت میں جب تہران نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے بلکہ افزودہ مواد کے ذخائر کو بھی محدود کرے اور ایک سخت بین الاقوامی معائنہ نظام کو قبول کرے۔
وینس نے واضح کیا کہ امریکا کی ترجیح یہ ہے کہ ایران ایسا نظام اپنائے جس سے عالمی برادری کو یقین ہو سکے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی معاشی اور سیاسی صورتحال میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی بنیادی شرط ہوگی۔
