وقت جس برق رفتاری سے بدل رہا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے اس دنیا کے طور طریقے، انسانوں کے رہن سہن یہاں تک کہ پرندوں کے مسکن تک تبدیل ہورہے ہیں اور اسی بدلتی دنیا کی ایک حقیقت جنگی محاذوں، سامانِ حرب، جنگی حکمت عملی کی تبدیلی بھی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنگیں زورِ بازو، تیر کمانوں، شمشیروں، نیزوں کے دَم پر لڑی جاتی تھیں۔
پھر انسان کے ارتقا کے ساتھ سامانِ حرب نے بھی ارتقائی سفر طے کیا اور تِیر کمانوں، تلواروں کی جگہ بندوقوں، ٹینکوں، جنگی جہازوں، مشین گنز وغیرہ نے لے لی۔ بعدازاں ایٹم بم کی ایجاد اور دوسری جنگِ عظیم میں اس کے استعمال نے نہ صرف دنیا بلکہ جنگوں کا بھی نقشہ بدل کے رکھ دیا۔ تاہم اب آرٹی فیشل انٹیلی جینس یا ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کا دَور دورہ ہے اور حالیہ جنگوں سے ثابت بھی ہوگیا ہے کہ مستقبل کی جنگوں اور معرکوں کے فیصلے آرٹیفیشل انٹیلی جینس پر مبنی ہوں گے۔
اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کی قوّت و اہمیت کے پیشِ نظر ’’میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس‘‘ کے زیرِ اہتمام کراچی میں ’’اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزاورمستقبل کی جنگ‘‘ کے موضوع پرایک انتہائی اہم، علمی اور پروفیشنل عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جو 22 سے 23 اپریل 2026 تک جاری رہی۔
کانفرنس میں بحری اُمور کے ماہرین دفاعی صنعت سے وابستہ افراد، تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد بدلتے ہوئے جغرافیائی و اسٹریٹجک رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کے جنگی حکمتِ عملی پر اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
دو روز جاری رہنے والی اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی امیر البحر ایڈمرل نوید اشرف تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ صنعت، صارفین اور جامعات کے درمیان قریبی اشتراک ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اشتراک سے نہ صرف جدّت فروغ پائے گی بلکہ بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں مؤثریت بھی برقرار رہے گی۔ امیر البحر کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر دفاعی پیداوار اور خود انحصاری کے ذریعے پاکستان کم لاگت میں عالمی سطح پر مضبوط دفاعی نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں برآمدی صلاحیت بھی موجود ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ بحرِ ہند ایک اہم خطّہ ہے جہاں مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی تشکیل پارہی ہے، بحرِ ہند سے عالمی تجارت کی وسیع آمد و رفت ہے جس میں رکاوٹ سے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں۔ مہمانِ خصوصی نے جنگی محاذ کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر کی جنگ کا ایک بڑا حصّہ سائبر وار فیئر پر مبنی ہے۔ انہوں نے کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر اسپیس، ماڈرن ایکوسسٹم کے کردار کو بھی اُجاگر کیا۔
ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا ٹیکنالوجی روڈ میپ تیار کرکے اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اس میدان میں خود انحصاری ناگزیر ہے۔ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ امیر البحر نے انسانی ذہانت، قوّت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی یا مصنوعی ذہانت، انسانی ذہانت کے بغیر غیر مؤثر ہے۔
بحرِ ہند، مستقبل کی جنگ کا اہم میدان
امیر البحر کا بحرِ ہند کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’یہ خطّہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس خطّے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور معیشتوں پر گہرے اثرات مرتّب کرسکتی ہے۔ اس تناظر میں علاقائی تعاون اور بحری سلامتی کے مضبوط نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ماڈرن ٹیکنالوجی اور جدید جنگی محاذ
دو روزہ کانفرنس میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت سے جنگ کی نوعیت یک سر تبدیل ہوچُکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی جنگی یا معرکوں میں شمولیت نے حربی حکمتِ عملیوں، محاذ جنگ بلکہ اسٹریٹیجک سسٹم پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے جس کے پیش نظر پاکستان کو بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں فوری اور موثر تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
اے آئی پر مبنی ہتھیاروں، جنگی بحری جہازوں، آب دوزوں، ڈرونز یا جنگی طیاروں کے حوالے سے برآمدات پر نہیں خود انحصاری پر توجّہ دینا ہوگی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اب ’’بَیٹل گراؤنڈ‘‘ یا محاذِ جنگ صرف ’’محاذ‘‘ نہیں رہا بلکہ سائبر اسپیس، سیٹلائٹس میں ارتقا پذیر(evolve) ہوچُکا ہے۔ لہٰذا اب ہمیں بحث و مباحثے سے ایک قدم آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔
21 ویں صدی کی بحریہ
ماہرین نے 21 ویں صدی بالخصوص دورِ حاضر میں بحریہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب مصنوعی ذہانت کی وجہ سے اب پاک بحریہ بھی ’’فلوٹنگ شپس‘‘ سے نیٹ ورک تک کا ارتقائی سفر طے کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالاںکہ مصنوعی ذہانت، انسانی طاقت یا حکمت عملی کا نعم البدل ہر گز نہیں ہو سکتی، تاہم ماڈرن دور کے جنگی حربوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میری ٹائم سیکیورٹی میں آٹونومس سسٹم یا خود کار نظام انتہائی اہم ہوگیا ہے۔
اب جنگوں کا مستقبل صرف آب دوزیں، بحری جہاز یا ہتھیار نہیں رہے بلکہ اے آئی ہوگئی ہے۔اس دور میں جنگ جیتنی ہے تو انحصار صرف طاقت، قوّت اور انسانی ذہانت پر نہیں، رفتار، ڈیٹا، سائبر سیکیورٹی، سائبر اسپیس اور کوانٹم کمپیوٹنگ پر بھی کرنا ہوگا۔
پاکسان کا دفاعی ایکو سسٹم
کانفرنس میں پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی طور پر بات ہوئی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں جنگوں کا زاویہ، جہت بہت بدل چُکی ہے اور اب پاکستانی وار فیئر کا مستقبل ٹیکنالوجی سے مشروط ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک سے تحقیق، جدّت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، جو طویل المدتی اسٹریٹجک خود مختاری کے لیے نہایت اہم ہے۔
جدید ٹیکنالوجیز کا سوِل و عسکری استعمال
کانفرنس میں جس اہم پہلو پر روشنی ڈالی گئی وہ یہ تھا کہ جدید ٹیکنالوجیز کے سول اور عسکری استعمال کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے، جو مواقع کے ساتھ ساتھ ایسے چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے، جن سے پاکستان کے دفاعی نظام کو نمٹنا ہوگا۔
ساتھ ہی یہ پہلو اُجاگر کیا گیا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقّی جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے اور دفاعی حکمتِ عملی ، فورس اسٹرکچر اور نتائج ازسرِنو متعین ہو رہے ہیں۔ماہرین نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو قومی دفاعی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
اس اہم کانفرنس میں اعلیٰ عسکری قیادت، سفارت کاروں، پالیسی سازوں، صنعت سے وابستہ ماہرین اور مختلف جامعات کے طلبہ نے شرکت کی، جس سے ایک جامع علمی و فکری مکالمے کو فروغ ملا۔ کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کو سمجھنے اور اُبھرتے ہوئے رجحانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے مستقل علمی تعاون اور مشترکہ تحقیق ناگزیر ہے۔ موجودہ دَور ہائبرڈ جنگ کا ہے جس میں انسانی ذہانت اور مصنوعی ذہانت دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ جب کہ اس امر پر زور دیا گیا کہ مستقبل کے جنگی رجحانات سے ہم آہنگ رہنے اور ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل علمی و فکری تعاون بھی درکار ہے، کیوں کہ جو اقوام نئی ٹیکنالوجیز اپنا رہی ہیں ہیں، وہی کام یابی کی منازل تیزی سے طے کر رہی ہیں۔
