خطرے کی گھنٹی بج گئی، ہزاروں افراد کے بےروزگار ہونے کا خدشہ
گزشتہ تین برسوں میں اوسطاً سالانہ 3 ہزار 600 کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں
گزشتہ برس دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 14 ہزار 300 کے قریب رہی، جس سے روزگار کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ شماریات فن لینڈ کے مطابق دیوالیہ ہونے والی بیشتر کمپنیاں چھوٹی اور درمیانے درجے کی تھیں۔
سینئر شماریات دان میرا کوساری کا کہنا ہے کہ ملازمین کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ معاشی دباؤ کا سب سے زیادہ شکار ایس ایم ایز ہو رہی ہیں، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف دسمبر میں 360 دیوالیہ پن کے کیسز درج کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔
شماریات فن لینڈ کا کہنا ہے کہ دیوالیہ پن کی موجودہ لہر کا آغاز 2023 میں ہوا، اور گزشتہ تین برسوں میں اوسطاً سالانہ 3 ہزار 600 کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں۔
اس کے مقابلے میں 2010 کی دہائی میں دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کی سالانہ اوسط تعداد 2 ہزار 700 تھی، جو موجودہ صورتحال کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تعمیراتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں گزشتہ برس 768 کمپنیاں دیوالیہ ہوئیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس شعبے میں دیوالیہ پن کی بلند ترین سطح 2023 میں دیکھی گئی۔ میرا کوساری کے مطابق تقریباً تمام دیگر شعبوں میں بھی دیوالیہ پن کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو آنے والے مہینوں میں بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
