بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی اور بہتر معاشی استحکام کا اعتراف کر لیا

بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی اور بہتر معاشی استحکام کا اعتراف کر لیا

شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابو میں ہونے کے واضح اشارے ملے

عالمی مالیاتی اعداد و شمار اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے مستند ادارے بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے تازہ جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں ملک میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا، جو نومبر کے 6.1 فیصد اور مارکیٹ کے اندازوں سے کم ہے۔

خوراک کی قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی اور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہی، جس سے عوامی ریلیف کے آثار واضح ہو گئے۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں استحکام اور مہنگائی میں کمی نے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے اعتماد کو بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی۔

اسٹیٹ بینک نے بھی اس مثبت ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر کر دیا، جبکہ شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابو میں ہونے کے واضح اشارے ملے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کم شرحِ سود کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ کو نسبتاً سازگار بنائے گی اور سرمایہ کاری کے ماحول میں مثبت سگنلز پیدا کرے گی۔

قیمتوں کے استحکام اور مہنگائی میں کمی سے صارفین کی قوتِ خرید بہتر ہوئی اور عوامی ریلیف کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، اور مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے