کنٹریکٹ ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ سامنے آ گیا
مستقل آسامیوں کے لیے کنٹریکٹ بھرتیاں آئین کی روح کے خلاف ہیں
وفاقی آئینی عدالت نے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ملازمین کے حوالے سے ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ جاری کر دیا ہے جس نے سرکاری ملازمتوں کے نظام میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کے کاموں کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتیاں آئینی طور پر درست نہیں اور یہ عمل برابری اور بنیادی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق ریاستی اداروں میں اس نوعیت کی عارضی تعیناتیاں ایک غیر منصفانہ روایت بنتی جا رہی ہیں۔
فیصلے میں سابق فاٹا کے ڈسپنسرز کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ ملازمین کو 2002 کی تعیناتی کی تاریخ سے مستقل کیا جائے اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کیس کا تعلق وفاقی کابینہ کے 2008 کے اُس فیصلے سے بھی ہے جس کے تحت گریڈ 1 سے 15 تک کے ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ متاثرہ ملازمین کسی مخصوص پروجیکٹ کے لیے رکھے گئے تھے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ 2010 میں ان ملازمین کو برطرف کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا اور یہ معاملہ صرف ملازمت کا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کا بھی ہے، جن میں زندگی کے حق کے تحت روزگار کا استحکام شامل ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مستقل آسامیوں کے لیے کنٹریکٹ بھرتیاں آئین کی روح کے خلاف ہیں اور ریاست پر لازم ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔
