کانگو میں ایبولا کیسز میں خطرناک اضافہ، پہلے مہینے تاریخ کی بلند ترین سطح رپورٹ
یہ وبا ابتدائی طور پر بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث کئی ماہ تک خاموشی سے پھیلتی رہی، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے کیسز کسی بھی پچھلی وبا کے مقابلے میں پہلے مہینے میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئے ہیں جس کی بڑی وجہ بیماری کا تیزی سے شہری علاقوں تک پھیلنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ وبا ابتدائی طور پر بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث کئی ماہ تک خاموشی سے پھیلتی رہی اور بعد ازاں 15 مئی کو اس کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ اس بار کیسز کا بڑا حصہ شہری علاقوں میں سامنے آیا ہے جن میں بنیا اور ایک کان کنی کا شہر بھی شامل ہے جب کہ ماضی میں ایبولا زیادہ تر دیہی علاقوں تک محدود رہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے تاہم ان کے مطابق کچھ مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے، جیسے علاج کے لیے بستروں کی تعداد میں اضافہ اور مقامی آبادی میں شعور بیدار ہونا۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے ایک نمائندے نے بتایا کہ مشرقی کانگو کے گنجان پناہ گزین کیمپوں میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں کم از کم درجنوں افراد متاثر اور کئی ہلاک ہوچکے ہیں۔
ادارے کے مطابق ان کیمپوں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہیں جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایک فلاحی تنظیم کے نمائندے نے بھی بتایا کہ ایک کیمپ میں حالیہ دنوں میں متعدد بچوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم ان کی وجوہات کی تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق افریقا کے خطے میں ایبولا کی اس سے قبل بھی درجنوں وبائیں رپورٹ ہوچکی ہیں جن میں سب سے بڑی وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقا میں سامنے آئی تھی جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
