سندھ حکومت کی ترقیاتی بجٹ میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دینے کی تجویز

سندھ حکومت کی ترقیاتی بجٹ میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دینے کی تجویز

اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38.21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے

رواں مالی سال کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صحت کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ان دونوں شعبوں میں متعدد جاری ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38.21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔

دیگر شعبوں میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 9.22 ارب روپے، ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 6.30 ارب روپے، اور توانائی کے منصوبوں کے لیے 5.18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کے لیے 4.90 ارب روپے، ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے لیے 2.78 ارب روپے، جبکہ جنگلات اور جنگلی حیات کے لیے 2.39 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے لیے 54.1 کروڑ روپے جبکہ محکمہ خوراک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

یہ تجویز صوبائی حکومت کے ترقیاتی ترجیحات میں سماجی شعبوں خصوصاً تعلیم اور صحت کو مرکزی حیثیت دینے کی عکاسی کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے