کافی بڑھاپے کی رفتار کم کرنے میں مددگار ثابت، نئی تحقیق میں انکشاف
اس فائدے کی بڑی وجہ کیفین نہیں بلکہ کافی میں موجود قدرتی نباتاتی اجزا ہیں، ماہرین
امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کافی پینے سے انسانی صحت اور عمر پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جب کہ ماہرین کے مطابق اس فائدے کی بڑی وجہ کیفین نہیں بلکہ کافی میں موجود قدرتی نباتاتی اجزا ہیں۔
امریکی ماہرین کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کافی میں شامل بعض قدرتی اجزا جسم کو بڑھاپے سے متعلق بیماریوں سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق کافی پینے والے افراد میں دل کے امراض، کینسر، یادداشت کی کمزوری اور دیگر عمر سے جڑی بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اصل وجہ کافی میں موجود نباتاتی مرکبات ہیں جو پھلوں اور سبزیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے انسانی خلیات پر مختلف تجربات کیے اور دریافت کیا کہ کافی کے بعض اجزا جسم میں موجود ایک اہم جز پر اثر انداز ہوتے ہیں جو سوزش، خلیاتی نقصان اور جسمانی مرمت جیسے عمل کو قابو میں رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ جز عمر بڑھنے کے ساتھ کمزور ہونے لگتا ہے جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تاہم کافی کے کچھ قدرتی اجزا اس نظام کو فعال رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگرچہ عام طور پر کافی کا سب سے اہم جز کیفین سمجھا جاتا ہے لیکن صحت پر مثبت اثرات ڈالنے میں اصل کردار دیگر قدرتی مرکبات ادا کرتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ کافی میں ایک ہزار سے زائد قدرتی کیمیائی اجزا موجود ہوتے ہیں، اس لیے اس کے تمام فوائد کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ متوازن غذا، پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ مناسب مقدار میں کافی کا استعمال صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے تاہم ہر فرد کا جسم مختلف انداز میں ردعمل دیتا ہے اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین اب ایسے نئے علاج پر بھی کام کررہے ہیں جو کافی میں موجود قدرتی اجزا کی مدد سے کینسر اور دیگر بیماریوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوسکیں۔
