’’وقت کا غیر معمولی مظہر‘‘ حقیقت کے قریب، نئی تحقیق میں حیران کن نتائج
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سائنسی دنیا میں ابھی بھی بہت کچھ سمجھنا باقی ہے۔
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ بعض حالات میں وقت کا ایک غیر معمولی اور عجیب رویہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق روشنی کے باریک ذرات ایسے حالات میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ کسی مقام سے گزرنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل چکے ہیں۔
ماہرین نے اپنے تجربے میں روشنی کے ذرات کو ایک خاص گیس کے ایٹمز کے بادل سے گزارا، جہاں یہ ذرات عارضی طور پر اپنی توانائی ایٹمز کو منتقل کرتے ہیں اور پھر دوبارہ خارج ہوجاتے ہیں۔
عام حالات میں توقع ہوتی ہے کہ یہ ذرات روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ایک مخصوص وقت میں بادل کو عبور کریں گے لیکن مشاہدہ کیا گیا کہ بعض ذرات متوقع وقت سے پہلے ہی دوسری جانب پہنچ جاتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ذرات بادل کے اندر غیر معمولی طور پر کم وقت گزار کر باہر نکلے ہوں جو عام فہم کے برعکس ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق پہلے اس مظہر کو اس طرح سمجھا جاتا تھا کہ روشنی کے سگنل کا ابتدائی حصہ ہی سیدھا گزر جاتا ہے جب کہ باقی حصہ بکھر جاتا ہے جس سے نتیجہ غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔
تاہم نئی تحقیق میں ایک باریک طریقہ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے ایٹمز کی کیفیت کو جانچ کر یہ معلوم کیا گیا کہ روشنی کے ذرات حقیقت میں وہاں کتنی دیر موجود رہے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ دورانیہ واقعی غیر معمولی تھا اور یہ صرف ظاہری تاثر نہیں بلکہ ایک قابلِ پیمائش حقیقت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وقت میں پیچھے جانا ممکن ہوگیا ہے بلکہ یہ قدرت کے پیچیدہ اصولوں کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سائنسی دنیا میں ابھی بھی بہت کچھ ایسا ہے جسے سمجھنا باقی ہے اور مستقبل میں مزید تحقیقات اس حوالے سے نئی جہتیں سامنے لاسکتی ہیں۔
