عالمی بینک کے تعاون سے واٹر کارپوریشن کا پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتربنانے کیلئے اہم اقدام
دیگر پمپس کے ذریعے شہر کو پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رکھی جائے گی۔
سندھ حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروگرام کے تحت شہر میں پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھا لیا۔ اس اقدام کا مقصد کراچی کے بوسیدہ اور دبا کا شکار واٹر سپلائی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اس سلسلے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے کراچی کو پانی کی ترسیل کے نظام کو مزید مستحکم بنانے والا ایک اہم منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ منصوبے کے تحت دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر نئی مرکزی لائن نمبر 5 کو موجودہ واٹر نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، جس سے پانی کی ترسیل میں بہتری اور دبا میں توازن پیدا ہوگا۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق پرانی اور خستہ حال لائن نمبر 5 کے باعث شہر کو طویل عرصے سے پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ اس کی خرابی کے باعث دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی ترسیل بھی مسلسل متاثر ہو رہی تھی۔ ان مسائل کے پیشِ نظر نئی لائن کی تنصیب ناگزیر ہو چکی تھی، جس پر اب تیزی سے کام مکمل کیا جا رہا ہے۔ نئی پائپ لائن کے فعال ہونے کے بعد شہر میں پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
حکام کے مطابق نئی لائن کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے موجودہ نظام کے ساتھ انٹرکنکشن اور جدید والوز کی تنصیب ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 9 پمپس کو عارضی طور پر 48 گھنٹوں کے لیے بند رکھنے کا شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر کام 25 اپریل بروز ہفتہ دوپہر 12 بجے شروع ہوگا اور 27 اپریل بروز پیر تک 48 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔
شیڈول کے مطابق 27 اپریل سے 9 میں سے 7 پمپس کے ذریعے پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی، جبکہ باقی 2 پمپس کو مزید 5 روز کے لیے عارضی طور پر بند رکھا جائے گا تاکہ ضروری تکنیکی کام مکمل کیا جا سکے۔ انٹرکنکشن کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے فورتھ فیز، کے ٹو اور کے تھری سسٹمز سے پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی، تاہم دیگر پمپس کے ذریعے شہر کو پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رکھی جائے گی۔
اس دوران نارتھ کراچی، سرجانی، اسکیم 33 اور گلستانِ جوہر میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی، جبکہ گلشنِ اقبال، صدر اور چنیسر ٹان کے کچھ علاقوں میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی۔ مزید برآں مینٹیننس کے دوران نیپا، صفورا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس بھی بند رہیں گے۔ حکام کے مطابق اس بندش کے باعث شہر کو یومیہ تقریبا 250 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہوگا۔
واضح رہے کہ کراچی کو معمول کے مطابق یومیہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم مینٹیننس کے دوران بھی شہر کو یومیہ تقریبا 400 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دورانِ کام پانی کا باکفایت استعمال یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت یا دبا کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد طویل المدتی بنیادوں پر کراچی کے پانی کی فراہمی کے نظام کو مثر، مستحکم اور پائیدار بنانا ہے۔
