پاکستان پھر عالمی توجہ کا مرکز؛ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا، ٹرمپ

پاکستان پھر عالمی توجہ کا مرکز؛ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا، ٹرمپ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایک “منصفانہ اور قابل قبول” پیشکش دی جا چکی ہے اور معاہدہ کسی نہ کسی صورت طے پا جائے گا،

پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا مرحلہ اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے پاکستان میں موجود ہوں گے جن میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ امریکا اور ایران کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایک “منصفانہ اور قابل قبول” پیشکش دی جا چکی ہے اور معاہدہ کسی نہ کسی صورت طے پا جائے گا، چاہے وہ دوستانہ طریقے سے ہو یا دباؤ کے ذریعے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ڈیل قبول نہ کی تو سخت اقدامات کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات بھی کی۔

ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد دو مراحل میں پاکستان پہنچے گا جبکہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے بھی اسلام آباد آنے کی توقع ہے۔

ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا بنیادی خاکہ تیار ہو چکا ہے اور وہ اس حوالے سے پرامید ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کا بحری محاصرہ برقرار رکھا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک مجرمانہ عمل بھی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی رہنما محمد باقر قالیباف نے شرکت کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے