گالی دینا صحت کے لیے فائدہ مند، نئی تحقیق میں حیران کن حقائق سامنے آگئے
تحقیقات بتاتی ہیں کہ درست وقت پر دی گئی گالی درد کو کم کرسکتی ہے۔
کبھی کبھی آپ کا پیر بستر سے ٹکرا جائے اور فوراً منہ سے کوئی گالی یا بدزبانی نکل جائے جو کہ تیز، بلند اور غیر معمولی طور پر تسکین بخش ہو، یہ محض بدتمیزی نہیں بلکہ انسانی جسم کا ایک فطری ریفلکس ہے۔
گالی دینا دماغ اور اعصابی نظام کے ایسے حصوں کو متحرک کرتا ہے جو درد اور صدمے سے بچاؤ کے لیے ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ درست وقت پر دی گئی گالی درد کو کم کرسکتی ہے، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہے اور جسم کو تناؤ سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہے۔
یہ کوئی اخلاقی کمی نہیں بلکہ ایک قدرتی حفاظتی ردعمل ہے۔ یہ ردعمل شعوری بولنے سے بہت نیچے پیدا ہوتا ہے۔
عام زبان زیادہ تر دماغ کے سوچنے والے حصے میں بنتی ہے جب کہ گالی دینے کے عمل میں جذبات، یادداشت اور حفاظتی ردعمل کے نظام یعنی لیمبک سسٹم متحرک ہوتا ہے۔
اس میں ایمیگڈالا (جذباتی الارم) اور بیسل گینگلیا (حرکات اور خودکار ردعمل) شامل ہیں جو فوری سگنل دماغ کی ریڑھ کی ہڈی تک بھیجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ اتنے تیز نکلتے ہیں۔
گالی دینے سے جسم میں ایڈریلن، اینڈورفنز اور اینکیفالنز خارج ہوتے ہیں جو درد کم کرتے اور ہلکی تسکین کا احساس دیتے ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے، پٹھے سخت ہوجاتے ہیں اور جلد میں پسینے کی چھوٹی بوندیں نکلتی ہیں، یہ سب جسم کے جذباتی ردعمل کا حصہ ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو کبھی کبھار گالی دیتے ہیں، سخت سرد پانی میں اپنے ہاتھ زیادہ دیر رکھ سکتے ہیں یا جسمانی مشقوں میں زیادہ طاقت پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گالی دینا صرف ذہنی ریلیف نہیں بلکہ جسمانی ردعمل بھی ہے۔
مزید برآں، اچانک صدمے یا تناؤ کے وقت گالی دینا جسم کو اعصابی دباؤ سے آزاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ توانائی خارج نہ ہو تو جسمانی اعصاب زیادہ حساس رہتے ہیں جس سے بے چینی، نیند کی مشکلات اور دل پر اضافی دباؤ بڑھتا ہے۔
مختصراً گالی دینا ایک قدیم حفاظتی ریفلکس ہے جو انسان کی بقا کے لیے ارتقا پذیر ہوا۔ صحیح وقت پر یہ دماغ، دل اور جسم کو متحرک کرکے درد اور تناؤ سے نجات دیتا ہے اور ہمارے اندرونی نظام کو توازن میں رکھتا ہے۔
