وزیر اعظم شہبازشریف کا یوم عاشورہ پر قوم کے نام پیغام
بین المسالک احترام و ہم آہنگی کو فروغ دیں، اشتعال انگیزی اور نفرت کا سد باب کریں
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور 10 محرم الحرام 1448ھ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ہمیں حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی، حق و صداقت اور صبر و استقامت کی لازوال مثال یاد دلاتا ہے، اور ہمیں ان کے اصولوں پر چلتے ہوئے اتحاد، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے۔
یومِ عاشور بلا شبہ اسلامی تاریخ کا ایک فکر انگیز دن ہے جو نوع انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتا ہے۔
یہ دن اللہ تعالیٰ کی نصرت، اہلِ ایمان کی کامیابی اور حق کی سربلندی کے لیے قربانیوں کے عظیم واقعات کی یاد دہانی ہے۔ نواسۂ رسول ﷺ ، حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی عظیم قربانی نے یومِ عاشور کو تاریخِ اسلام میں منفرد اور دائمی اہمیت کا حامل بنا دیا۔
واقعہ کربلا ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اصولوں اور اقدار کی پاسداری ایک باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے قربانی دینا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے افضل ہے۔
واقعہ کربلا اصلاح امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے کاوش کا نام ہے۔ یہ مقصد ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو فروغ دیں۔
اختلافات ,نفرت اور انتشار کے بجائے باہمی احترام، رواداری اور یکجہتی جیسی اقدار کی مضبوطی ہمارا پیش نظر ہونا چاہیے۔
میں پوری قوم، بالخصوص علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، میڈیا اور نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی پیغام کو اجاگر کریں، بین المسالک احترام و ہم آہنگی کو فروغ دیں، اشتعال انگیزی اور نفرت کا سد باب کریں۔
آئیے آج کے موقع پر یہ عہد کریں کہ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی رہنمائی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی مضبوط کریں گے۔ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔
