پابندیاں نرم ہوں گی یا مزید سخت؟ ایران معاہدے پر امریکہ کا مؤقف سامنے آگیا

پابندیاں نرم ہوں گی یا مزید سخت؟ ایران معاہدے پر امریکہ کا مؤقف سامنے آگیا

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کے تحت 60 دن کا ایک اہم دورانیہ شروع ہو چکا ہے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خطے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متعدد اہم دعوے کیے ہیں۔

نائب صدر کے مطابق ایران اس وقت آبنائے ہرمز میں معاہدے کی شرائط کی پاسداری کر رہا ہے اور گزشتہ دو دنوں سے کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ کچھ میڈیا ادارے معاہدے کی شقوں کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ امریکا اور اس کے عوام کی فتح ہے۔ ان کے مطابق ایران کے رویے میں بہتری کے ساتھ ہی پابندیوں میں نرمی کا عمل بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کے تحت 60 دن کا ایک اہم دورانیہ شروع ہو چکا ہے جس میں حتمی مذاکرات مکمل کیے جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران ایسے ہتھیار یا میزائل نہیں بنائے گا جو خطے کے لیے خطرہ بنیں۔

نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اسے ریلیف کا انحصار اپنے رویے پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران، عمان اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نیا میکنزم تیار کیا جا رہا ہے جبکہ آئندہ فائنل ڈیل میں ٹول اور بحری گزرگاہوں سے متعلق معاملات بھی طے کیے جائیں گے۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران دوبارہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہ کرے اور یہ بھی طے پایا ہے کہ ایران خطے میں غیر ریاستی عناصر کی حمایت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لاتا ہے تو یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل سامنے آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے