لاہور: پنجاب میں عادی مجرمان اور معاشرہ مخالف رویے پر قابو پانے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس کے استعمال کی تجویز منظور کرلی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے بل پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظور ہوگیا ہے۔
’’پنجاب عادی مجرمان اور معاشرہ مخالف برتاؤ پر قابو ایکٹ 2026‘‘ کے تحت عادی مجرموں کی نگرانی کے لیے پہلی بار الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے مطابق ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی تفتیش کے بعد کسی شخص کو عادی مجرم قرار دے سکے گی جس کے بعد متعلقہ شخص کو الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس پہننے کا حکم دیا جاسکے گا۔ نگرانی کا حکم متعلقہ مجسٹریٹ ضلعی کمیٹی کی سفارش پر جاری کرے گا۔
قانون کے تحت نگرانی ابتدائی طور پر تین ماہ تک جاری رکھی جائے گی جب کہ ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔ اس دوران مجرم کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بار بار جرائم میں ملوث افراد، منظم جرائم کرنے والے، اشتعال انگیز مواد اور نفرت آمیز تقاریر پھیلانے والے افراد کو عادی مجرم قرار دیا جاسکے گا۔
اسی طرح بلیک میلنگ، دھمکیاں دینے، ہتھیاروں کی نمائش، خواتین کو ہراساں کرنے، جعلی دستاویزات بنانے، جوا کروانے اور دیگر معاشرہ مخالف سرگرمیوں کو بھی اس قانون کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق عادی مجرموں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جب کہ فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور بائیومیٹرک معلومات سرکاری ڈیٹا بیس میں محفوظ کی جائیں گی۔
ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کو وسیع اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے جس کے تحت کمیٹی کسی شخص کو عادی مجرم قرار دے سکتی ہے، اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش بھی کرسکے گی۔
اسی طرح عادی مجرموں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جاسکیں گے جب کہ سوشل میڈیا اور سائبر اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی بھی ممکن ہوگی۔
بل کے مطابق کمیٹی ہر ماہ اجلاس کرنے کی پابند ہوگی جب کہ اس کے فیصلے نیک نیتی پر مبنی تصور کیے جائیں گے۔ کمیٹی میں ڈویژنل کمشنر، پولیس افسران، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلیجنس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
قانون کی خلاف ورزی پر تین سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ متاثرہ شخص کو ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر اپیل کا حق حاصل ہوگا جب کہ وہ ٹریبونل میں بھی 30 دن کے اندر اپیل دائر کرسکے گا۔
بل کی حتمی منظوری قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ایوان سے لی جائے گی، جس کے بعد اسے گورنر پنجاب کی توثیق کے لیے بھیجا جائے گا۔
