عمرفاروق|اگہی
کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی کی پیشکش قبول کر لی ہے اور اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی انہیں بھیج دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک غیرمعمولی سیاسی پیش رفت دکھائی دیتی ہے، مگر اگر موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ معاملہ محض ثالثی کانہبں فیس سیونگ کاہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں نہ اس کے پاس آگے بڑھنے کا واضح راستہ ہے اور نہ ہی باعزت واپسی کی کوئی آسان صورت۔ گزشتہ چند برسوں میں عوامی حقوق کے نام پر جس شدت کے ساتھ بیانیہ تشکیل دیا گیا، اس نے قیادت کو خود اپنے ہی بیانیے کا قیدی بنا دیا ہے۔ اب اگر ایک قدم بھی پیچھے ہٹا جائے تو وہی ہجوم، جسے مسلسل جذباتی نعروں کے ذریعے متحرک رکھا گیا، قیادت کے خلاف اٹھ کھڑاہونے کوتیارہے ۔ اس لیے وہ اب ہاتھ پائوں ماررہی ہے کہ کسی ناکسی طرح اسے کنویں سے نکال کرپانی کوپاک کیاجائے۔
میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ عمر نذیر کشمیری نے خود مختلف لوگوں سے رابطے کرکے معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رابطے کسی اعلیٰ سطح پر نہیں بلکہ انتہائی لو لیول پر کیے گئے، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت کس بھنور میں پھنس چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جو قیادت کل تک اپنے مؤقف کو حرفِ آخر، اپنے مطالبات کو اٹل اور اپنی تحریک کو ناقابلِ واپسی قرار دے رہی تھی، آج وہی قیادت ثالثوں، ضامنوں اور درپردہ رابطوں کے سہارے کوئی راستہ تلاش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی مجبوری آن پڑی ہے کہ کل تک جو لوگ مذاکرات کو کمزوری اور مفاہمت کو پسپائی قرار دیتے تھے، آج وہی کسی نہ کسی ذریعے سے اپنے لیے راہِ فرار تلاش کرنے میں مصروف ہیں؟
پھر انتشاری کمیٹی کے دھرنے میں شامل وہ عناصر بھی اب اس کی قیادت کے لیے وبالِ جان بنتے جا رہے ہیں جن کے اشتعال انگیز بیانات نے پوری تحریک کو متنازع بنا کر رکھ دیا ہے۔ کل جب عمر نذیر کشمیری مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی اور مذاکرات کی بات کر رہے تھے تو اس سے چند لمحے پہلے ہی ان کی کور کمیٹی کے رکن خواجہ مہران کی وہ تقریر منظرعام پر آ چکی تھی جس میں انہوں نے کشمیری فوجیوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی بات کی۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف ثالثی، مفاہمت اور مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جو آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ آخر یہ دوغلا پن کب تک چلے گا؟
ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ عوامی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر ریاستی اداروں کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اب فرق صرف یہ ہے کہ ریاست بھی اس کھیل کو پوری طرح سمجھ چکی ہے اور کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ خواجہ مہران نے رات کو اشتعال انگیز تقریر کی اور صبح ہونے سے پہلے ہی قانون حرکت میں آ گیا۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے سیکیورٹی اداروں میں بغاوت پر اکسانے اور اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت خواجہ مہران ارشد کے خلاف اے پی سی کی دفعہ 124-A کے تحت بغاوت کامقدمہ درج کر لیا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب ریاست محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گی بلکہ قانون کو چیلنج کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی کی پیشکش آخر کب اور کس سطح پر سامنے آئی؟ کیا یہ باضابطہ طور پر مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تھی یا جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر کی قیادت اور دیگر مذہبی شخصیات کی سطح پر کوئی مصالحتی کوشش کی گئی؟ حالانکہ اسی انتشاری کمیٹی کے غنڈہ عناصر نے چند دن قبل مولاناسعیدیوسف کاراستہ روک کرہنگامہ کھڑاکیاتھا اوران کے خلاف سوشل میڈیابدترین مہم چلائی تھی ۔
اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے مختلف حلقوں سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا سعید یوسف نے خط کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی جبکہ بعض حلقے مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر اور مذاکرات کی حمایت کو اس پیش رفت کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ثالثی کا فریم ورک کیا ہوگا، اس کے اختیارات کیا ہوں گے اور فریقین اس کے فیصلوں کے پابند ہوں گے یا نہیں۔
کیا دوسرا فریق بھی مولانا فضل الرحمٰن کو بطور ثالث قبول کرنے پر آمادہ ہے؟
کیا مولانا فضل الرحمٰن، جو اس وقت حکومت کا حصہ نہیں بلکہ اپوزیشن میں ہیں، واقعی مطالبات منوانے کی پوزیشن رکھتے ہیں؟
حکومت اور ریاستی ادارے پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ دھرنا ختم کیے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے تو پھر ثالثی کی عملی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟
کیا ایکشن کمیٹی مولانا کی ہر تجویز ماننے کی ضمانت دے سکتی ہے؟
کیاانتشاری کمیٹی مولانافضل الرحمن کے مطالبے پراپنے فسادی ایجنڈے سے دستبردارہونے کوتیارہوگی ؟
اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر ثالثی ناکام ہو جاتی ہے تو اس کی سیاسی قیمت کون ادا کرے گا؟
دلچسپ امر یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق ایکشن کمیٹی صرف مولانا فضل الرحمٰن ہی نہیں بلکہ وکلاء، صحافیوں اور اوورسیز کشمیری شخصیات کے ذریعے بھی مختلف سطحوں پر رابطے کر چکی ہے۔ جس سے واضح ہورہاہے کہ انہیں فیس سیونگ چاہیے ۔مگرانتشاری کمیٹی جواپنے ہی بھنورمیں پھنس چکی ہے ایک طرف فیس سیونگ کے لیے ترلے کررہی ہے تودوسری طرف اپنے جٓذباتی کارکنوں کومطمئن کرنے کے لیے چارٹرآف ڈیمانڈبھی پیش کررہی ہے ۔
کیوں کہ انتشاری کمیٹی نے مولاناکوجوچارٹرآف ڈیمانڈبھیجاہے اس میں معاملہ اب صرف مہاجرین کی نشستوں تک محدودنہیں رہابلکہ کافی آگے بڑھ چکاہے اب اس انتشاری کمیٹی کواپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں مہاجرین کی نشستیں اورعوامی حقوق تواب اخری نمبروں پرہیں انہیں اب یہ فکرہے کہ ان پرجومقدمات قائم کیے گئے ہیں انہیں ختم کیاجائے ۔جن نکات پر تحریک کا آغاز ہوا تھا، وہ اب ترجیحات کی فہرست میں بہت پیچھے جا چکے ہیں جبکہ فوری توجہ قانونی اور سیاسی نتائج سے بچاؤ پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ مذاکرات آخر کس کی ضرورت ہیں؟ اگر ریاست اور ریاستی ادارے اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں کہ دھرنا ختم ہونے تک کوئی بامعنی بات چیت نہیں ہوگی، اور اگر دوسری طرف ریاستی گرفت روز بروز سخت ہوتی جا رہی ہے، تو پھر وقت کس کے حق میں گزر رہا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں صرف ایکشن کمیٹی کی قیادت ہی نہیں بلکہ اس کے حامیوں کو بھی دینا ہوگا۔ کیونکہ تحریکیں نعروں سے اٹھتی ہیں، مگر اپنی منزل حکمت، تدبر اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے حاصل کرتی ہیں۔ جب جذباتی سیاست حقیقت کے پتھریلے میدان سے ٹکراتی ہے تو فیصلہ نعروں کا نہیں، طاقت، حکمت اور سیاسی بصیرت کا ہوتا ہے۔ اور آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایکشن کمیٹی کے پاس اب بھی کوئی حکمتِ عملی موجود ہے، یا پھر وہ صرف وقت کے ہاتھوں لکھے جانے والے انجام کا انتظار کر رہی ہے؟ See less
The post ثالثی نہیں، فیس سیونگ: first appeared on afbnews.pk.
The post ثالثی نہیں، فیس سیونگ: appeared first on afbnews.pk.
The post ثالثی نہیں، فیس سیونگ: appeared first on afbnews.pk.
