مدتِ میعاد گزرنے کے بعد دائر دعویٰ ناقابلِ سماعت، غیر ثابت شدہ دستاویزات پر ڈگری نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اختر نیوز ):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ قانونِ میعاد محض ایک تکنیکی ضابطہ نہیں بلکہ عوامی پالیسی پر مبنی ایک لازمی قانونی اصول ہے، اس لیے مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر کیا گیا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہتا، جبکہ غیر ثابت شدہ دستاویزات اور ناکافی شہادت کی بنیاد پر کسی فریق کے حق میں ڈگری بھی جاری نہیں کی جا سکتی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی نے جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ کا فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے میسرز اسٹالیئنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔مقدمے کے مطابق نجی تعمیراتی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 1996 میں وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے اضافی گیٹس، اینٹی رائٹ گیٹس، بولارڈز اور روڈ بلاکرز نصب کیے تھے، تاہم سی ڈی اے نے منصوبے کی مکمل ادائیگی نہیں کی۔ کمپنی نے بقایا رقم اور منافع کی مد میں 9 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی کے لیے 2013 میں دعویٰ دائر کیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 117 کے تحت جس فریق کا دعویٰ ہو، اس پر ہی اس دعوے کو قابلِ قبول اور قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ محض یہ حقیقت کہ مخالف فریق نے شہادت کو چیلنج نہیں کیا، ناقص یا غیر ثابت شدہ شہادت کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی کمپنی اپنے دعوے کے حق میں پیش کردہ دستاویزات کو قانون کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام رہی، جبکہ دعوے کی تائید میں کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد شہادت بھی پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے بوجھِ ثبوت کبھی بھی سی ڈی اے پر منتقل نہیں ہوا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانونِ میعاد کے تحت عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ ازخود بھی یہ جانچیں کہ دعویٰ مقررہ مدت کے اندر دائر کیا گیا ہے یا نہیں، چاہے فریقین اس اعتراض کو اٹھائیں یا نہ اٹھائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون صرف ان افراد کی مدد کرتا ہے جو اپنے حقوق کے حصول کے لیے بروقت اقدام کرتے ہیں، نہ کہ ان لوگوں کی جو طویل عرصے تک خاموش رہتے ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کمپنی کا حقِ دعویٰ 1997 میں پیدا ہو چکا تھا جب اضافی ادائیگی کا مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ بعد کی خط و کتابت کو مدنظر رکھا جائے تب بھی 2013 میں دائر کیا گیا مقدمہ قانوناً مدتِ میعاد سے باہر تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض خط و کتابت یا نمائندگیوں سے مدتِ میعاد نہ تو معطل ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں توسیع ہوتی ہے۔عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون اور حقائق کا درست جائزہ لیا تھا، لہٰذا اس کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ چنانچہ اپیل مسترد کر دی گئی۔

The post مدتِ میعاد گزرنے کے بعد دائر دعویٰ ناقابلِ سماعت، غیر ثابت شدہ دستاویزات پر ڈگری نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ first appeared on afbnews.pk.

The post مدتِ میعاد گزرنے کے بعد دائر دعویٰ ناقابلِ سماعت، غیر ثابت شدہ دستاویزات پر ڈگری نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ appeared first on afbnews.pk.

The post مدتِ میعاد گزرنے کے بعد دائر دعویٰ ناقابلِ سماعت، غیر ثابت شدہ دستاویزات پر ڈگری نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ appeared first on afbnews.pk.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے