ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان خطے میں دہشتگردی کا باقاعدہ بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت تمام کالعدم تنظیمیں موجود ہیں، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور اسے طاقت کے ذریعے ہی جیتا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر اور پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں نے شہدائے پاکستان کو سلام پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں شام سے 2 ہزار 500 غیر ملکی دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں، جو افغان شہری نہیں بلکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کو پناہ دیتی ہے اور مختلف تنظیمیں تشکیل دے رہی ہے، جو خود کو اسلام کا علمبردار ظاہر کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، تاہم تینوں بنیادی وعدوں پر کوئی عملی پیشرفت نظر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا اور افغانستان میں حکومت نام کی کوئی مؤثر چیز موجود نہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جبکہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو کسی نے حق نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے شہریوں یا انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچائے، اور معرکۂ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، جو پوری دنیا نے دیکھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658 آپریشنز کیے گئے جبکہ بلوچستان میں دہشتگردی کے 1 ہزار 557 واقعات رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں 2 خواتین خودکش بمبار بھی شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے 3 ہزار 811 واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، جبکہ خودکش حملوں میں خیبر پختونخوا میں 16، بلوچستان میں 10 اور اسلام آباد میں ایک واقعہ پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان، بلوچستان یا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، ریاست کا مؤقف واضح ہے اور دنیا نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی اقدامات کو سراہا ہے۔

پختونخوا میں دہشتگردی کیلئے سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے: ڈی جی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ کے پی میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف موقف واضح ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کیلیے فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا  فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ خوارجی دہشتگردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ  گزشتہ سال دہشتگردی کے ہونے والے واقعات سے متعلق جامع احاطہ کیا جائے گا، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، دہشتگردوں کا پاکستان، اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں،دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے،  یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنا ہے، یہ جنگ ہم نے طاقت سے جیتنی ہے۔

ان کا کہنا تھا نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کرگیا، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے، افغان طالبان وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی کو اسپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے، طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنا رہےہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا جب ہم دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں، 2023 میں ریاست پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کھڑی ہو گئی، سوال کیاجاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہیں جن کیلیے لڑنا ناصرف ضروری ہے بلکہ جائز ہے، ہم دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے