کیا یہ قدرت کا کرشمہ ہے؟ سفید آنکھوں والی نایاب سنہری شارک دریافت

وسطی امریکا کے ساحل پر نایاب ’’سنہری شارک‘‘ دریافت ہوئی جس میں حیران کن بیماری کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔

گہرے سمندروں کی خاموش اور خوفناک شکاری شارک عام طور پر شوخ رنگوں کی نہیں ہوتے مگر کبھی کبھار قدرت حیرت انگیز نظارے بھی دکھا دیتی ہے۔

ایسا ہی ایک انوکھا واقعہ اگست 2024 میں کوسٹا ریکا کے ساحل کے قریب پیش آیا، جہاں ماہی گیروں نے ایک نرس شارک کو پکڑا اور بعد ازاں زندہ واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔

یہ شارک اپنی عام بھورے رنگت کے بجائے شوخ نارنجی رنگ کی تھی اور اس کی آنکھیں مکمل طور پر سفید تھیں جو ماہی گیروں کے لیے حیرت کا باعث بنیں۔

بعد ازاں ماہرین نے بتایا کہ یہ غیر معمولی رنگت دراصل دو نایاب جینیاتی کیفیات کے ایک ساتھ ظاہر ہونے کا نتیجہ تھی۔

سائنس دانوں کے مطابق اس شارک میں سیاہ رنگ پیدا کرنے والے مادّے کی کمی پائی گئی جسے البینزم کہا جاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ پیلے رنگ کی غیر معمولی زیادتی بھی موجود تھی جسے زینتھزم کہا جاتا ہے۔

ان دونوں کے امتزاج کو ایک نایاب کیفیت سمجھا جاتا ہے جسے البینو-زینتھوکرومزم کہا جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس غیر معمولی رنگت کے باوجود شارک کی بقا متاثر نہیں ہوئی۔ وہ کیریبین سمندر کے گرم پانیوں میں بظاہر صحت مند حالت میں زندگی گزار رہی تھی۔

یہ واقعہ 10 اگست 2024 کو ٹورٹوگیرو نیشنل پارک کے قریب پیش آیا، جہاں ماہی گیر خوان پابلو نے تقریباً 37 میٹر گہرائی میں اس شارک کو پکڑا۔

انہوں نے اس کی تصاویر لیں، پیمائش کی اور بغیر نقصان پہنچائے واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔ بعد میں یہ تصاویر ایک ماحولیاتی سیاحت کی کمپنی نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

برازیل کی وفاقی یونیورسٹی کے ماہرینِ بحریات کی قیادت ماریوکس ماکیاس کویارے کر رہے تھے نے ان تصاویر اور معلومات کی بنیاد پر اس نایاب جینیاتی کیفیت کی تصدیق کی۔

ان کے مطابق سفید آنکھیں اور شوخ نارنجی رنگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ صرف ایک رنگت کی خرابی نہیں بلکہ دو نایاب جینیاتی تبدیلیوں کا امتزاج ہے۔

ماہی گیروں کے مطابق شارک کی لمبائی تقریباً دو میٹر تھی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مکمل بالغ تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نایاب کیفیت اس کی نشوونما یا بقا میں رکاوٹ نہیں بنی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عام ہوسکتی ہیں مگر انسان کی محدود رسائی کے باعث کم ہی سامنے آتی ہیں۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نرس شارک میں البینزم اور زینتھزم بیک وقت دیکھے گئے ہوں جس کے باعث مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے