راولپنڈی (اختر نیوز)جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے مرکزی انتخابات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جن کے نتیجے میں آئندہ پانچ سال کے لیے شیخ الحدیث مولانا سعید یوسف کو امیر جبکہ مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا ہے۔ نومنتخب قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کارکنوں کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے جمعیت کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کرے گی۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے مرکزی نائب ناظمِ انتخابات اور راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد جہانگیر نقشبندی اور جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر راولپنڈی کے امیر مولانا صغیر احمد ربانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولانا قاری محمد جہانگیر نقشبندی نے اس موقع پر رکنیت سازی اور مرکزی انتخابات سے متعلق تفصیلات بھی جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا سعید یوسف کا پانچویں مرتبہ امیرِ جمعیت منتخب ہونا ایک بڑا اعزاز ہے، جو جمعیت سے وابستہ سینکڑوں علماء، مشائخ اور کارکنان کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے مولانا سعید یوسف کی دینی، علمی اور سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی پہلی بار جمعیت کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اور ان کی دعوتی، اصلاحی اور دینی خدمات کو ہر سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نیک اور صالح قیادت کا انتخاب جمعیت علمائے اسلام کے لیے باعثِ فخر ہے۔قاری جہانگیر نقشبندی کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام آئندہ انتخابات میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ظلم، کرپشن اور اقربا پروری کے نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرے گی۔اور پارلیمانی سیاست کو اصلاحِ نظام کا مؤثر ذریعہ سمجھتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ علمائے کرام نے پارلیمان کا حصہ بن کر یہ اصول منوایا کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔ آزاد کشمیر میں جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر اور علماء کرام نے اسلامی قانون سازی میں بنیادی کردار ادا کیا، جن کی جدوجہد سے قضا کے قیام، مفتیانِ عظام کے نظام، معلمینِ قرآن کی تعیناتی، عربی و اسلامیات کے اساتذہ کی تقرری اور شریعت اپیلیٹ بینچ کا قیام ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام واحد جماعت ہے جس میں رکنیت سازی اور تنظیم سازی کا ایک واضح، منظم اور شفاف جمہوری نظام موجود ہے۔ جمعیت ملک کی سب سے بڑی دینی و سیاسی جماعت ہے، جسے نوے فیصد علماء کرام کی تائید حاصل ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا مشن علمائے اسلام کی رہنمائی میں امتِ مسلمہ کی منتشر قوتوں کو منظم کرنا، اقامتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے لیے جدوجہد کرنا، اسلام، مرکزِ اسلام اور شعائرِ اسلام کا تحفظ یقینی بنانا اور قرآن و سنت کی روشنی میں سیاست، معیشت، معاشرت اور ریاستی نظام میں عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے، نیز ایک ہمہ گیر اسلامی نظامِ تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھنا جمعیت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
مولانا سعید یوسف پانچویں بارامیر،مفتی محمود الحسن پہلی بارجے یو آئی کے سیکرٹری جنرل منتخب